لاہور میں کریک ڈاؤن، 300 لیگی کارکن گرفتار

ای میل

لاہور پولیس نے مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے استقبال کی تیاریاں کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 300 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد میں یونین کونسل کے چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز بھی شامل ہیں۔

لاہور پولیس کے ذرائع نے ڈان ٹی وی کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ کمشنر کی جانب سے300 سے زائد لیگی کارکنوں کی فہرست دی گئی تھی جنہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

میاں نواز شریف اور مریم نواز جمعرات کی شب ہیتھرو ایئر پورٹ سے لاہور کے لیے روانہ ہوگئے تھے، دونوں رہنما بذریعہ ابو ظہبی جمعہ کی شام لاہور ایئر پورٹ پر پہنچیں گے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز نے بتایا کہ لاہور میں امن و امان کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے دس ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے اظہار یکجہتی کیلئے خواتین کا خصوصی لباس تیار

اس کے علاوہ حساس ادارے، اسپیشل برانچ، ڈولفن فورس اور اسپیشل یونٹ کے اہلکار بھی لاہور کے حساس علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے۔

لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق لاہور کے اہم داخلی و خارجی راستوں کو رات گئے کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی پنجاب اکبر کا کہنا تھا کہ تمام پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران شرپسندی پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے والے سیاسی کارکنوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف،مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ پر ہی گرفتار کرلیا جائے گا،ذرائع

ذرائع کے مطابق لاہورایئر پورٹ پر جمعہ کو سخت سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے، خاردار تاروں اور کنٹینرز سے راستے بند کردیے جائیں گے، سابق وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر ایئرپورٹ پر صرف مسافروں اور ملازمین کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

’شہباز شریف کو احتیاط کرنی چاہیے‘

علاوہ ازیں نگراں وزیرداخلہ پنجاب شوکت جاوید نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو گھر میں نظر بند کرنے پر ابھی غور نہیں کررہے، شہباز شریف کو وزیر اعظم جتنی سیکورٹی دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 نافذ ہے،شہباز شریف کو احتیاط سے کام لینا چاہیے، اگر شہباز شریف نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

شوکت جاوید نے کہا کہ کارکنوں کی گرفتاریاں اتنی نہیں کی جتنی بتائی جارہی ہیں،ایئر پورٹ پر کسی کو جانے نہیں دیا جائے گا، ہم امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھیں گے، غیر جانبدار ہوکر کام کررہے ہیں۔

نگراں وزیرداخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں جو الزمات لگائے میں اس کی تردید کرتا ہوں،لاہور اور پورے پنجاب میں ایسا نہیں ہورہا جیسا بتایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ 6 جولائی کو شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

گزشتہ روز نیب حکام نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو بھی راولپنڈی سے گرفتار کرکے انہیں جیل بھیج دیا تھا۔

میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کئی ماہ سے لندن میں زیر علاج ہیں۔ انہیں 15 جون کو اچانک دل کا دورہ پڑنے پر ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

کلثوم نواز کو جب ہسپتال منتقل کیا گیا اس وقت نواز شریف اور مریم نواز لندن پہنچنے کے لیے محو پرواز تھے۔

کلثوم نواز کو گزشتہ سال اگست میں گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد ان کی سرجری ہوئی اور کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کے کئی سیشنز ہوئے تھے۔