سپریم کورٹ نے پنجاب کے مختلف حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے خلاف 3 علیحدہ پٹیشنز کو مؤخر کردیا۔

جسٹس عظمت شیخ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد ان پٹیشنز کی سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ نے حلقہ این اے 146 عارف والا سے تحریک انصاف کے امیدوار امجد جوئیہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف درخواستوں کی سماعت انتخابات کے بعد ہوگی۔

عدالت نے پی پی 285 (ڈی جی خان) اور پی پی 11 (فیصل آباد) سے بالترتیب آزاد امیدوار میر بادشاہ قیصرانی اور خواجہ اسلام کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔

درخواست گزار وسیم ظفر جٹ نے تحریک انصاف کے امیدوار احمد جوئیہ کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پہلے تین عام انتخابات میں خود کو گریجویٹ ظاہر کیا جبکہ بعد ازاں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں تعلیمی قابلیت میٹرک ظاہر کی تھی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے شیخ رشید احمد کو اہل قرار دے دیا

عدالت نے معاملے کو الیکشن کے بعد تک کیلئے مؤخر کردیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کو انتخابات تک کے لیے موخر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی اکاؤنٹس اور 35 ارب روپے کی مشتبہ ٹرانزیکشن کے کیس کی تحقیقات میں میں ایف آئی اے کی سست روی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ کوئی کہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے‘۔