اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پارٹی سربراہ عمران خان ملک کے 21ویں وزیراعظم کا حلف 18 اگست کو اٹھائیں گے۔

بنی گالہ میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کی ملاقات کے بعد شاہ محممود قریشی نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کو قومی اسمبلی کا اسپیکر بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے، جس میں طویل مشاورت کے بعد قومی اسمبلی میں اسپیکر کے لیے تحریک انصاف کے امیدوار خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اسد قیصر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا اسد قیصر خیبرپختونخوا اسمبلی میں 5 سال اسپیکر رہے اور بہت خوبصورتی سے ایوان کو چلایا، وہ پارلیمانی آداب اور روایات سے واقف ہیں۔

مزید پڑھیں: جو 35 کروڑ کا بنگلہ ڈھونڈے گا اسے گفٹ کردوں گا:اسد قیصر

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسد قیصر نے اپوزیشن کے ساتھ اچھے روابط رکھے اور ساتھ چلانے کی کوشش کی، اسی تجربے اور رویے کو دیکھتے ہوئے انہیں اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔

پنجاب میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا صوبے میں لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور اعتماد کیا، آج پنجاب میں ہماری جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوچکی ہے اور ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے چوہدری محمد سرور کو گورنر پنجاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ صوبے میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ چوہدری سرور پہلے بھی گورنر رہ چکے ہیں اور وہ آئینی کردار اور پنجاب کی صورتحال سے واقف ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ نامزد گورنر پنجاب ہمارے پارلیمانی بورڈ میں شامل تھے اور وہ مختلف فیصلوں میں شامل رہے، ہم چاہتے تھے کہ ان کے سینئر ہونے کا فائدہ اٹھائیں اور وہ صوبے میں سیاسی استحکام کے لیے بہتر کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر کے پی اسمبلی کے خلاف پی پی پی اراکین کی تحریک عدم اعتماد

انہوں نے کہا کہ 13 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا گیا ہے، لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسی روز تمام ساتھی و اتحادیوں کو مدعو کیا جائے، جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان، شیخ رشید احمد اور کچھ آزاد امیدوار بھی شامل ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ کچھ لوگوں کو ذمہ داری دی جائے کہ وہ مختلف علاقوں کے اراکین پارلمنٹ سے رابطے میں رہیں، جس میں خیبرپختونخوا کے اراکین سے رابطے کی ذمہ داری پرویز خٹک، سندھ کی ذمہ داری عارف علوی، بلوچستان کی ذمہ داری قاسم سوری اور خان محمد جمالی اور اسی طرح پنجاب کے 4 ریجن کی ذمہ داریاں علیحدہ نمائندوں کو دی گئی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وسطی پنجاب کے ارکان سے شفقت محمود، مغربی پنجاب میں چوہدری سرور، شمالی پنجاب سے عامر کیانی اور جنوبی پنجاب کے ارکان سے میں خود (شاہ محمود قریشی) رابطے میں رہیں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی طلبی کا نوٹس جاری

ایک سوال کے جواب میں تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ 23 سے زائد آزاد امیدوار تحریک انصاف کے ساتھ منسلک ہوئے اور اپنا حلف نامہ الیکشن کمیشن کو جمع کروادیا۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے لیے چوہدری پرویز الہیٰ کے نام کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔