سپریم کورٹ نے انتخابی عزرداری سے متعلق کیسز میں سندھ کے 2 حلقوں سے امیدواروں کے روکے گئے کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے این اے 215 سانگھڑ ون اور پی ایس 21 گھوٹکی کے حلقوں سے متعلق انتخابی عزرداری کیس کی سماعت کی۔

اس دوران عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے این اے 215 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار نوید ڈیرو کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں: سندھ اسمبلی: نومنتخب اراکین نے حلف اٹھالیا

خیال رہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے اس حلقے سے ناکام امیدوار خدا بخش راجڑ کے اعتراضات پر نوٹیفکیشن روکنے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے پی ایس 21 گھوٹکی سے بھی کامیاب امیدوار کے حق میں فیصلہ سنایا۔

عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائیکورٹ کے دوبارہ گنتی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار علی نواز مہر کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

ساتھ ہی عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ پی ایس 21 گھوٹکی سے امیدوار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کریں۔

خیال رہے کہ علی نواز مہر کی کامیابی کو متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے امیدوار جام سیف اللہ نے چیلنج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مراد علی شاہ ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ سندھ نامزد

تاہم ریٹرننگ افسر نے جام سیف اللہ کی دوبارہ گنتی کی درخواست کو مسترد کیا تھا، جس کے بعد معاملہ سندھ ہائیکورٹ میں گیا، جہاں عدالت نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیتے ہوئے علی نواز مہر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے آج ہونے والے پہلے اجلاس میں حلف اٹھالیا، تاہم نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں اراکین حلف نہ اٹھا سکے تاہم یہ لوگ اب آئندہ اجلاس میں حلف اٹھائیں گے۔