بھارت کی ریاست چندی گڑھ میں ہریانہ پولیس سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون پولیس کانسٹیبل نے الزام لگایا کہ ہیڈ کانسٹیبل اور ان کے بھائی نے متعدد مرتبہ ریپ کیا اور غیر اخلاقی تصاویر کے ذریعے بیک میل کیا جارہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ میں پولیس حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ مبینہ ریپ کا مقدمہ پلوال کے خاتون پولیس اسٹیشن میں درج کرلیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: چلتی کار میں خاتون کا ریپ

سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) پلوال وسیم اکرم نے ان الزامات کی تردید کی، جن میں کہا جارہا تھا کہ خاتون کانسٹیبل کے ساتھ ریپ پولیس اسٹیشن میں ہوا تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ 'خاتون ہیڈ کانسٹیبل نے شکایت درج کرائی کہ ملزم جوگندر عرف منٹو آف الاوال پور اور خاتون کے درمیان پلوال میں 2014 میں رابطہ ہوا تھا جبکہ وہ ملزم سے مہندر گڑھ میں مل چکی تھی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'خاتون نے بیان دیا کہ وہ اس وقت سے رابطے میں تھے اور اس دوران ملزم نے خاتون کانسٹیبل کو فرید آباد، چند اور پلوال میں پوسٹنگ کے دوران متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا'۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: 14 سالہ لڑکی کے ریپ میں ملوث 6 ملزمان گرفتار

پولیس افسر نے بتایا کہ شکایت کنندہ کا مزید کہنا تھا کہ 'جون 2017 میں جوگندر نے خاتون کانسٹیبل سے اپنے بھائی کی ملاقات کرائی، جو فرید آباد تھانے میں ہیڈ کانسٹیبل تھا اور اس نے بھی خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کیا'۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خاتون کانسٹیبل نے الزام لگایا کہ ملزمان کے پاس ان کی غیر اخلاقی تصاویر ہیں اور وہ اسے رقم کی ادائیگی اور مزید جنسی تعلقات قائم کرنے کے لیے حراساں کررہے ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: بھارت: ریپ کے الزام میں پنڈت کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

پولیس افسر نے مزید بتایا کہ 'دوران تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزم جوگندر شادی شدہ اور 2 بچوں کا باپ ہے جبکہ شکایت درج کرانے والی خاتون کانسٹیبل بھی شادی شدہ ہے'۔

تاہم رپورٹ میں کیس کی تفتیش یا ملزمان کے بیانات کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔