‘قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کو دنیا کے آخری کونے تک نہیں چھوڑیں گے’

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں نیب اس کا پیچھا کرے گا۔

ایوان صںعت و تجارت کے دورے پر تاجروں سے ملاقات کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ‘مجھے خریدنے کی کوشش کی گئی لیکن میں کوئی پلازا نہیں، بڑے سے بڑے آدمی کا اثر و رسوخ نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہوجاتا ہے، نیب کے کسی فعل سے تاجروں کو پریشانی نہیں ہوگی لیکن ان کے خلاف گھیرا تنگ ہو گا جو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا چیئرمین نیب کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان

نیب کی کارکردگی سے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نیب نے 2 سو 97 ارب روپے کی ریکوری کی ہے تاہم نیب میں 39 ہزار 7 سو 28 شکایتیں درج ہیں۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب افسران کو کسی کی عزت نفس کے ساتھ کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے کسی نام لیے بغیر کہا کہ جن کے پاس موٹر سائیکل تھی ان کے دبئی میں ٹاور کیسے بن گئے۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ تاجر برادری کی پریشانیوں کے سدباب کے لیے خصوصی ڈیسک تشکیل دیں گے جہاں پر موجود ڈائریکٹر یا ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز افسر شکایات سنے گا اور بروقت ازالہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نیب کی کارکردگی پر کوئی شک نہیں، پی ٹی آئی رہنما

غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق کارروائی کے بارے میں چیئرمین نیب نے بتایا کہ جعلی سوسائٹیز کے خلاف سخت ایکشن لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی وجہ سے غریب زندگی بھر کی کمائی سے محروم ہوئے اور آج وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

علاوہ ازیں جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مجھے خریدنے کی باتیں کی گئیں میں کوئی پلازا نہیں، ایسی چیزیں ناممکنات میں سے ہیں، ہر اثر، ہر سفارش اور بڑے آدمی کا اثر و رسوخ نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہوجاتا ہے، گیٹ کے اندر صرف قانون ہے جس کے آپ سب اور میں بھی پابند ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب کی تقرری کے مقاصد واضح نہیں، پی ٹی آئی

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ نیب کا کسی گروپ یا کسی شخص سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہے۔

جاوید اقبال نے کہا کہ نیب بھی ملک کی معاشی دھارے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے کہ جو رقم ملک سے باہر گئی ہے اسے واپس لایا جاسکے۔