ٹیکس نادہندگان کے خلاف ایف بی آر کی بڑی کارروائی کا آغاز

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2018

ای میل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ملک بھر میں ٹیکس نادہندگان سے وصولی کے لیے بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے بڑے ٹیکس چوروں کو ٹیکس دہندگان میں شامل کرنے کی مہم کا آغاز وزیر خزانہ اسد عمر کی ہدایات پر کیا گیا۔

ایف بی آر کا یہ اقدام ان حکومتی کوششوں کا مظہر ہے جس میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرتے ہوئے ان تمام لوگوں سے محصول وصول کرنا ہے جو جائیدادوں، قیمتی گاڑیوں کے مالک ہیں یا اپنی املاک سے لاکھوں روپے کرایے کی مد میں وصول کرتے ہیں لیکن نہ تو ٹیکس دیتے ہیں نہ ٹیکس ریٹرن میں اندراج رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آرکے 100 بڑے نادہندگان کے خلاف آپریشن کریں گے، فواد چوہدری

ایف بی آر کے مطابق مہم کے پہلے مرحلے میں ان 169 ٹیکس نادہندگان اور نان فائلرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جن کے حالیہ دنوں میں بڑے کاروباری لین دین اور مالیاتی سودوں کے ثبوت موجود ہیں۔

ایف بی آر کی جانب سے ان تمام ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس ادا کرنے کا کہا جائے گا اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں بھاری جرمانوں اور سزاؤں کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس ضمن میں ادارہ مرحلہ وار ان نادہندگان کے خلاف کارروائی کرے گا جنہوں نے 2 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی جائیداد یا 18 سو سی سی انجن کی گاڑی خریدی ہو یا وہ سالانہ ایک کروڑ روپے کرایے کی مد میں وصول کرتے ہوں پر نہ تو ٹیکس ریٹرن کا اندارج کیا ہو نہ ہی ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل ہوں۔

مزید پڑھیں: ٹیکس میں چھوٹ سے خزانےکو پہنچنے والا نقصان

ملک بھر میں امیر ٹیکس نادہندگان سے ٹیکس وصولی کے لیے شروع کی جانے والی مہم کے تناظر میں ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان میں تمام ٹیکس نادہندگان کو خبردار کرتے ہوئے 30 نومبر تک ٹیکس ریٹرن فائل کرنے اور واجب الادا ٹیکس ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر خزانہ کے ساتھ گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں ایف بی آر نے 8 ترجیحی ایریاز میں کریک ڈاؤن کا منصوبہ پیش کیا تھا، تاکہ معاشرے کے سب سے امیر طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے۔

اجلاس میں اسد عمر کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ایف بی آر نے بااثر ٹیکس چوروں کی معلومات اکٹھا کر لی ہیں اور کریک ڈاؤن کے آغاز اور منصوبے پر عملدرآمد کرنے کے لیے باضابطہ اجازت کا منتظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت بیمار ہے، اس کا بائی پاس ہو رہا ہے، وزیر خزانہ

دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ایف بی آر کی جانب سے مبینہ طور پر تاجروں کو ہراساں کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ٹیکس دہندگان میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر سید مظہر ناصر کا کہنا تھا کہ تاجروں کی جانب سے اثاثے ظاہر کرنے کی حکومتی اسکیم برائے سال 18-2017 کے تحت املاک ظاہر کرنے کے باوجود حکومتی ادارے انہیں املاک ظاہر کرنے کے لیے خطوط ارسال کررہے ہیں جو اسکیم کی پالیسی کے خلاف ہے۔

انہوں نے اسکیم کے تحت حکومت کی جانب سے اثاثے ظاہر کرنے والوں سے جائیداد خریدنے کے ذرائع نہ پوچھنے کی یقین دہانی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں کیونکہ اثاثے ظاہر کرنے پر معلومات کو راز رکھنا اہم نقطہ تھا۔