پروین رحمٰن قتل کیس: 5 سال میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،سپریم کورٹ برہم

03 اکتوبر 2018
—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سماجی رہنما پروین رحمٰن قتل کیس میں ٹرائل کے احکامات کے باوجود پیش رفت نہ ہونے پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کردیا۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی بانی پروین رحمٰن قتل کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران جسٹس عظمت نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں مزید پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ عدالت کو معاملہ سب کچھ ٹھیک بتایا گیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ’ ہم سب سمجھ رہے ہیں کہ سندھ پولیس اورپروسیکیوشن کیا کررہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے جاری اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

سماعت میں وقفے سے قبل انہوں نے استفسار کیا کہ کیوں نہ جے آئی ٹی بنا کر اس کیس کی تحقیقات کروالی جائیں۔

مزید پڑھیں : ’پروین رحمٰن کے قتل میں طالبان نہیں، لینڈ مافیا ملوث تھی‘

جس پر وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہونے پر سندھ حکومت کے وکیل نے بتایا کہ مذکورہ کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی ٹرائل کا حکم دیا گیا تھا۔

بعد ازاں کیس کی سماعت 6 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے عدالتی بینچ نےایک مرتبہ پھر پروین رحمٰن قتل کیس کی درخواست گزار عقیلہ اسماعیل کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔

ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ویسٹ کراچی نے عدالت کو عقیلہ اسماعیل کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

جس پر عدالت نے خبردار کیا کہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پروین رحمٰن قتل کیس کا پس منظر

اورنگی پائلٹ پروجیکٹ کی بانی پروین رحمن 13 مارچ 2013 کو اپنے آفس سے گھر جارہی تھیں کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے منگھوپیر روڈ پر بنارس پل کے پاس ان پر فائرنگ کردی تھی ، جس کے نتیجے میں ان کی گردن پر گولیاں لگی تھیں۔

پروین رحمٰن کے ڈرائیور نے فوری طور پر انہیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا تھا تاہم اس حملے میں وہ جانبر نہ ہوسکی تھیں۔

بعدِ ازاں مارچ 2015 میں کراچی اور مانسہرہ پولیس نے مانسہرہ کے علاقے کشمیر بازار میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پروین رحمٰن کے قتل میں ملوث ملزم پپو کشمیری کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یاد رہے کہ 7 مئی 2017 کو کراچی پولیس نے منگھوپیر تھانے کی حدود سلطان آباد میں کارروائی کرتے ہوئے اس قتل کے مبینہ قاتل اور کیس کے مرکزی ملزم رحیم سواتی کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

رواں برس کے آغاز میں سپریم کورٹ نے پروین رحمٰن قتل کیس میں عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے اٹارنی جنرل اوشتر اوصاف کو نوٹس جاری کیا تھا۔

جس کے بعد 22 مارچ کو سندھ پولیس پر مشتمل جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ پروین رحمٰن کے قتل کی سازش میں لینڈ مافیا ملوث تھی کیونکہ وہ گوٹھ آباد اسکیم پر کام کررہی تھیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل ویسٹ زون عامر فاروقی نے جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے رپورٹ پیش کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’پروین رحمٰن کے قتل میں تحریکِ طالبان کے سنیئر کمانڈر قاری بلال کو مرکزی ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا‘۔

یہ بھی پڑھیں : پروین رحمٰن قتل کیس: سپریم کورٹ کا عدالتی کمیشن کی تشکیل کا حکم

واضح رہے کہ پروین رحمن کے قتل کے اگلے ہی روز 14 مارچ 2013 کو قاری بلال کو مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

بعد ازاں 29 مارچ کو 2013 انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس میں نامزد پانچ ملزمان ایاز شمزیی عرف سواتی ، محمد امجد حسین خان، احمد خان عرف پپو کشمیری ، محمد عمران سواتی اور محمدرحیم سواتی پر فردِ جرم عائد کردی تھی۔

کیس میں نامزد ملزمان نے اقرارِ جرم نہیں کیا تھا اور اپنے خلاف الزامات کا دفاع کرنے کا اختیار چُنا،جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے پروسیکیوشن گواہان کو بیانات قلمبند کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔

مزید پڑھیں : پروین رحمٰن قتل کیس: جے آئی ٹی کو 31 اپریل تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت

تاہم 28 جون کو یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ کیس میں ٹرائل کا آغاز نہیں ہوسکا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پولیس گواہان کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین نے ڈان کو بتایا تھا کہ ’ مذکورہ کیس میں تقریباً 23 پروسیکیوشن گواہان موجود ہیں لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ان میں سے کوئی بھی بیان ریکارڈ کروانے کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کررہا۔‘

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں