بلال آصف نے آسٹریلیا کے خلاف کئی عالمی ریکارڈ توڑ دیے

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2018

ای میل

بلال آصف نے 36رنز کے عوض 6وکٹیں حاصل کیں— تصویر بشکریہ ٹوئٹر
بلال آصف نے 36رنز کے عوض 6وکٹیں حاصل کیں— تصویر بشکریہ ٹوئٹر

دبئی: آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں عمدہ باؤلنگ کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی آف اسپنر بلال آصف نے نیا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

اسپنر بلال آصف آسٹریلیا کے خلاف چھ وکٹیں لے کر ڈیبیو ٹیسٹ اننگز میں 5 یا زائد وکٹیں لینے والے معمر ترین باؤلر بن گئے۔

بلال نے آسٹریلیا کے خلاف جاری پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 33 برس اور 13 دنوں کی عمر میں 36 رنز کے عوض 6 وکٹیں لے کر یہ سنگ میل عبور کیا۔

مزید پڑھیں: دبئی ٹیسٹ: بلال کی تباہ کن باؤلنگ، آسٹریلین ٹیم 202 رنز پر آؤٹ

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل ڈیبیو ٹیسٹ اننگز میں 5 یا زائد وکٹیں لینے والے معمر ترین باؤلر کا اعزاز بھی پاکستانی کرکٹر کو حاصل تھا۔

تنویر احمد نے 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف 31 برس اور 335 دنوں کی عمر میں 6 وکٹیں لیکر یہ اعزاز پایا تھا۔

اس شاندار کارکردگی کی بدولت آصف علی ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے تیسرے پاکستانی اسپنر بن گئے جہاں ان سے قبل شاہد آفریدی اور محمد نذیر بھی یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

پاکستانی آف اسپنر نے 36رنز کے عوض 6 وکٹیں لے کر آسٹریلیا کے خلاف ڈیبیو پر بہترین باؤلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 128 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میتھیو ہیڈن بدترین حادثے میں بال بال بچ گئے

اس سے قبل آسٹریلیا کے خلاف ڈیبیو پر بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ انگلینڈ کے فریڈ مارٹن کے پاس تھا جنہوں نے 1890 میں 50رنز کے عوض 6وکٹیں لے کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

آسٹریلین ٹیم نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ٹیسٹ تاریخ کی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اوپنرز کی جانب سے 142 رنز کا آغاز ملنے کے بعد کینگروز نے 60 رنز پر 10 وکٹیں گنوائیں۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کی اوپنرز کی جانب سے سنچری شراکت کے بعد تیسری بدترین کارکردگی ہے۔

ٹیسٹ تاریخ میں اسطرح کی بدترین کارکردگی کا منفی ریکارڈ بھارت کے پاس ہے جب 1946 میں انگلینڈ کے خلاف بھارتی ٹیم 124 رنز کا آغاز ملنے کے بعد 46 رنز کے اضافے سے اپنی 10 وکٹیں گنوا بیٹھی تھی۔

مزید پڑھیں: انہوں نے میرے مذہب کے بارے میں بات کی، تب ہی انہیں مارا، مسلمان فائٹر

اس فہرست میں نیوزی لینڈ کی ٹیم دوسرے نمبر پر ہے جس نے 1974 میں آسٹریلیا کے خلاف دوسری اننگز میں 107 رنز کا آغاز ملنے کے بعد 51 رنز کے اضافے سے اپنی 10وکٹیں گنوائی تھیں۔

اس کے علاوہ یہ کینگروز کی گزشتہ 50 برسوں میں پہلی اننگز میں بدترین پرفارمنس ہے جہاں اس کی آخری 9 وکٹیں صرف 42رنز کے اضافے سے گریں۔

میچ میں آسٹریلین اوپنر ایرون فنچ نے ڈیبیو ٹیسٹ اننگز میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے نصف سنچری بنا کر اننگز کو یادگار بنایا لیکن ٹریوس ہیڈ اور مارنس لبوشین کے لیے کیریئر کی ابتدائی اننگز بھیانک خواب بن گئی۔

پاکستان کے خلاف جاری پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے فنچ، ٹریوس ہیڈ اور لبوشین کو ٹیسٹ کیپ پہنائی تھی۔

فنچ نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی اننگز میں 62 رنز اسکور کر کے ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین انداز میں انٹری دی۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں کیا پاکستانی ٹیم واقعی فیورٹ ہے؟

لیکن ٹریوس ہیڈ اور لبوشین ناکام رہے جنہیں پاکستان کی جانب سے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے بلال آصف نے ایک ہی اوور میں کھاتہ کھولے بغیر پویلین کی راہ دکھائی۔

یہ ٹیسٹ تاریخ کا چھٹا موقع ہے کہ ٹاپ سکس بیٹنگ پوزیشنز میں کسی ٹیم کے ڈیبیو کرنے والے دونوں کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہوئے ہوں۔