حکومت کا ہیلتھ کارڈ کے اجرا، اسمگل شدہ موبائل فون بند کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری پریس کانفرنس کر رہے ہیں — فوٹو، اسکرین شاٹ
وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری پریس کانفرنس کر رہے ہیں — فوٹو، اسکرین شاٹ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے رواں برس کے آخر تک غریب عوام کے لیے ہیلتھ کارڈ کے اجرا اور ملک میں اسمگل شدہ موبائل فونز بند کرنے کا اعلان کردیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ حکومت غریب عوام کے لیے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کرے گی جس کی مدد سے وہ 3 سے 4 لاکھ روپے کا علاج کروا سکیں گے، جو رواں برس کے آخر تک جاری کردیے جائیں گے۔

ملک میں اسمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے والے موبائل فون پر بھی پابندی کا اعلان کیا اور بتایا کہ ایسے موبائل فون راوں برس کے آخر تک بند ہوجائیں گے۔

وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ 98 فیصد سگریٹ کا ٹیکس صرف 2 کمپنیاں ادا کررہی ہیں، تاہم سگریٹ مافیا کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید دیکھیں: فواد چوہدری کی قومی اسمبلی میں جارحانہ تقریر

شہرِ کراچی میں بجلی بحران کے حل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک اور شنگھائی الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو 25 اکتوبر تک حل کرلیں۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک اورشنگھائی الیکٹرک کی شراکت داری پر کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ ایئر وائس مارشل (ر) ارشد خان کو قومی ایئر لائن پی آئی اے کا نیا چیئرمین تعینات کردیا گیا، جبکہ عون عباس کو ایم ڈی بیت المال مقرر کردیا گیا۔

حکومتی وعدوں پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمارے 100 دن کے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے ویب سائٹ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عوام یا تو عمران خان کے ساتھ ہیں یا خلاف، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ یکساں تعلیمی نظام کے لیے کمیٹی کام کررہی ہے، 50 لاکھ گھروں کا منصوبہ تحریک انصاف کا وعدہ تھا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم ہاؤسنگ اسکیم میں شمولیت کے لیے 250 روپے کا فارم ملے گا۔

انہوں نے بتایا کہ واگزار کروائی گئی زمین اور حکومت کی زمین پر مکانات بنائے جائیں گے، جس میں گھربنانے کےلیے سرکاری زمین بطور زرضمانت کے طور پر استعمال ہوگی، جبکہ ان کی تعمیر کے لیے حکومت رقم خرچ نہیں کرے گی۔

وزیرِ اطلاعات نے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آڈٹ کروانے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ 38 ارب روپے کا تھا، لیکن اس کی تکمیل 100 ارب روپے میں ہوئی۔

مزید پڑھیں: ہم پاکستان کو سمجھوتے پر نہیں چلاسکتے، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے پر 400ارب روپے سے زائد قرضہ ہے، تاہم پی آئی اے کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے ایئر وائس مارشل (ر) ارشد خان کو ہدایت کردی گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ہیں، تاہم ان ایوان میں آمد پر ان سے سوال کرنے کا بھی موقع ملے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری بڑھے گی، اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ اب تک ملک میں 3 ہزار سے زائد افراد کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں، تاہم نیب کو بھی احتسابی عمل تیز کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اپوزیشن جتنا رونا ہے رولے، احتساب کا عمل نہیں رکے گا‘

انہوں نے تجویز پیش کی کہ گزشتہ 10 سال کے دوران معاشی بدحالی کو جانچنے کے لیے بھی پارلیمانی کمیشن بنایا جائے اور ان 10 سالہ پارلیمانی خرابیوں کو بھی دور ہونا چاہیے۔

انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اپوزیشن شور مچانے کے بجائے اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات کا جواب دے‘۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ کرپٹ عناصر سے لٹا ہوا پیسہ واپس لینے اور پاکستان کو اس کے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک روز مرہ کے معاملات میں بھی قرض کا محتاج ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے قرض پر وزیرِ خزانہ اسد عمر سے ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی۔