اسرائیل مخالف مہم پر گرفتار امریکی طالبہ تل ابیب کی عدالت میں پیش

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2018

ای میل

22سالہ امریکی طالبہ لارا القسم تل ابیب کی عدالت میں موجود ہیں— فوٹو: اے ایف پی
22سالہ امریکی طالبہ لارا القسم تل ابیب کی عدالت میں موجود ہیں— فوٹو: اے ایف پی

اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ مہم کا حصہ بننے والی امریکی طالبہ نے حراست میں لیے جانے پر تل ابیب کی عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے رہا کر کے ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

اسرائیل مخالف مہم کی حمایت کرنے پر 2 اکتوبر کو لارا القاسم کو بین گوریون ایئرپورٹ پر روک کر حراست میں لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل، شامی سرحد کو اقوام متحدہ کے لیے کھولنے پر رضامند

فلسطیی نژاد لارا القاسم امریکا سے یروشلم پہنچی تھیں تاکہ ہیبریو یونیورسٹی سے اپنا ماسٹرز شروع کر سکیں لیکن انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک کر حراست میں لے لیا گیا اور قانونی ویزا ہونے کے باوجود وہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایئرپورٹ پر سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

22 سالہ امریکی طالبہ کو ملک میں داخلے سے روکتے ہوئے فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی جہاں حکام کا ماننا ہے کہ وہ بائیکاٹ مہم کی ایک سرگرم کارکن ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہم نے لارا کو زبردستی حراست میں نہیں رکھا اور وہ اپنے ملک واپس جا سکتی ہیں جبکہ اگر وہ معافی مانگیں اور بائیکاٹ مہم سے علیحدگی کا اعلان کریں تو ہم اپنے فیصلے پر غور بھی کر سکتے ہیں۔

جمعرات کو امریکی طالبہ تل ابیب کی عدالت میں پیش ہوئیں اور عدالت کا فیصلہ آنے تک وہ حراست میں ہی رہیں گی لیکن ابھی تک عدالتی فیصلے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل: بغیر مقدمے کے 13 ماہ قید کاٹنے والے فلسطینی نژاد فرانسیسی کی رہائی

لارا کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہمارا کیس مضبوط ہے اور ریاست کے اعتراضات اور ثبوت کمزور ہیں لیکن میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہتا اور ہم اگلی سماعت میں زیادہ تیاری کے ساتھ پیش ہوں گے۔

فلسطین کی جانب سے شروع کی گئی مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل کی جانب سے مقرر کردہ وزیر جیلاد اردن نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے اور اس بات کا فیصلہ اسرائیل خود کرے گا کہ اس کی حدود میں کس کو داخل ہونا ہے۔

بائیکاٹ، ڈائیویسٹمنٹ اور سینکشنز مہم کا آغاز 2005 میں فلسطین کے سول سوسائٹی گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں دنیا بھر کے عوام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی تشدد کے خلاف اس کا ثقافتی، معاشی، سماجی اور تعلیمی بائیکاٹ کریں۔

مزید پڑھیں: بدعنوانی کے الزامات، اسرائیلی وزیراعظم سے 12ویں مرتبہ تفتیش

ہیبریو یونیورسٹی نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبہ کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے انہیں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دیں۔

واضح رہے کہ بائیکاٹ کے حوالے سے لارا سب سے طویل حراست کا سامنا کرنے والی خاتون ہیں اور ان سے قبل کسی کو بھی اس جرم میں اتنے طویل عرصے تک حراست میں نہیں رکھا گیا۔