ریپ میں ملوث پادریوں کا جرم چھپانے کا الزام: آرچ پشب ڈونلڈ وورل کا استعفیٰ منظور

12 اکتوبر 2018

ای میل

آرچ پشب ڈونلڈ وورل — فوٹو : اے ایف پی
آرچ پشب ڈونلڈ وورل — فوٹو : اے ایف پی

پوپ فرانسس نے بچوں سے ریپ کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بننے والے واشنگٹن چرچ کے آرچ پشب ڈونلڈ وورل کا استعفیٰ منظور کرلیا، جس کے بعد وہ اس اسکینڈل میں عہدہ چھوڑنے والے سب سے سینئر کارڈینل بن گئے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 77 سالہ آرچ پشب جو 1988 سے 2006 تک پٹس برگ کے بشپ کے طور پر تعینات تھے، انہیں پینسلوینا میں بچوں کے ریپ میں ملوث پادریوں کا جرم چھپانے کے الزامات کا سامنا تھا۔

تاہم ڈونلڈ وورل کے مستعفی ہونے پر پوپ فرانسس نے جوابی خط میں طویل عرصے سے اپنے اتحادی کو سراہا اور کہا کہ ریپ اسکینڈل کو حل کرنے میں ان سے کچھ غلطیاں ضرور سرزد ہوئیں لیکن انہوں نے اس معاملے کو چھپایا نہیں تھا۔

پوپ فرانسس نے لکھا کہ ’تاہم آپ نے اپنے دفاع کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے، ہمیں آپ پر فخر ہے‘۔

مزید پڑھیں : ‘300 مذہبی پیشواؤں نے 1 ہزار بچوں کا ریپ کیا‘

علاوہ ازیں، پوپ نے ڈونلڈ وورل کو نئے پشب کی تعیناتی تک چرچ کے انتظامات سنبھالنے کا کہا، تاہم ڈونلڈ وورل کے پاس کارڈینل کا عہدہ موجود ہے۔

ڈونلڈ وورل نے اپنے استعفے کے جواب میں پوپ فرانسس کے خط کو بہت اچھا قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے سے مقامی چرچ کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

واشنگٹن ڈی سی چرچ کے آرچ پشب ڈونلڈ وورل نے ماضی میں کیے گئے غلط فیصلوں سے متعلق معافی بھی مانگی۔

انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ’میرا استعفیٰ واشنگٹن چرچ سے وابستہ لوگوں سے شدید محبت کے اظہار کا طریقہ ہے’۔

واضح رہے کہ کارڈینل ڈونلڈ وورل پر واشنگٹن چرچ کے سابق کارڈینل تھیوڈور میک کرک کی جانب سے جنسی جرائم میں ملوث ہونے سے آگاہ ہونے کے الزامات بھی عائد ہیں۔

ڈونلڈ وورل نے بارہا پٹس برگ میں اپنے ریکارڈ کا دفاع کیا کہ انہوں نے کسی کا جرم نہیں چھپایا تاہم وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے پاس اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس جولائی میں تھیوڈور میک کرک گزشتہ 100 سالوں میں اپنی سرخ ٹوپی اور اعزاز سے محروم ہونے والے پہلے کارڈینل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چلی: بچوں کے ساتھ ریپ میں ملوث 3 پادریوں کا استعفیٰ منظور

خیال رہے کہ رواں برس اگست میں نئی جیوری کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پینسلوینا میں 6 کیتھولک انتظامیہ سے حاصل دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ تقریباً 300 پادریوں نے 1 ہزار سے زائد بچوں کا ریپ کیا۔

جیوری نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ ریپ کا شکار بے شمار بچوں کا ریکارڈ موجود نہیں یا وہ ہزاروں لوگوں کے سامنے خود کو پیش کرنے سے خوفزدہ ہیں‘۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ’پادری چھوٹے بچوں اور بچیوں کا ریپ کررہے تھے لیکن وہ لوگ جو ذمہ دار تھے انہوں نے کچھ نہیں کیا بلکہ تمام معاملات میں چپ سادھ لی‘۔

واضح رہے کہ رواں برس جون میں پاپائے روم فرانسس نے بچوں کے ساتھ ریپ کے اسکینڈل میں ملوث چلی کے 3 پادریوں کے استعفے منظور کیے تھے۔

منظور کیے گئے استعفوں میں بشپ جوئن باروس کا استعفیٰ بھی شامل تھا جن پر ریپ کے کیس کو چھپانے کی کوشش کا الزام تھا۔