’خاشقجی قتل کی تحقیقات میں محمد بن سلمان بے گناہ ثابت ہوں گے‘

05 نومبر 2018

ای میل

شہزادہ الولید بن طلال نےفوکس بزنس کو انٹرویو دیا تھا — فوٹو: فوکس نیوز
شہزادہ الولید بن طلال نےفوکس بزنس کو انٹرویو دیا تھا — فوٹو: فوکس نیوز

سعودی شہزادہ الولید بن طلال کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات میں بے گناہ ثابت ہوجائیں گے۔

فوکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الولید بن طلال نے بتایا کہ سعودی عرب جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کو عوام کے سامنے لائے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ شہزادہ محمد بن سلمان کو بے گناہ ثابت کردے گی‘۔

’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں ماریا بارتی رومو کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں شہزادہ الولید بن سلمان نے کہا کہ ’ آپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جمال صرف میرا دوست نہیں تھا، وہ میرے ساتھ کام کررہا تھا‘۔

مزید پڑھیں : 'جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے تیزاب میں تحلیل کیے گئے'

انہوں نے کہا کہ ’ سعودی قونصل خانے میں جو کچھ ہوا وہ ہولناک ہے اور مجھے یقین ہے کہ سعودی عرب اس کی تہہ تک جائے گا لیکن آپ تحقیقات مکمل ہونے اور سعودی حکومت کی جانب سے پبلک کیے جانے تک کی مہلت دیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ شہزاہ محمد بن سلمان سے متعلق میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ صحیح ہیں اور یہ کہ سعودی عرب انقلابی طریقے سے سماجی، مالی اور معاشی سطح پر تبدیل ہورہا ہے ‘۔

ولید بن طلال کا کہنا تھا کہ ’ اس وقت سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر ترقی اور تبدیلی ہورہی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں : جمال خاشقجی ’خطرناک شدت‘ پسند تھے، سعودی ولی عہد

فوکس بزنس نے رپورٹ کیا کہ ولید بن طلال نے مزید کہا تھا کہ امریکی قانون سازوں کی تنقید کے باوجود وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ آنے سے متعلق یقین نہیں رکھتے‘۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب خطے میں ’ امن، استحکام اور سالمیت کا مرکز‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یمن، عراق، شام اور ایران کو دیکھیں وہ سب انتشار کا شکار ہیں، سعودی عرب خطے میں استحکام کا مرکز ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ 1945 میں ہمارا اتحاد اس وقت بنا تھا جب شاہ عبدالعزیز ابن سعود صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ سے ملے تھے اور یہ تعلق مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔

الولید بن طلال نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عرب سے بہترین تعلقات کا دعویٰ بھی کیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے حکام نے کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 350 مشتبہ افرادکو گرفتار کیا تھا جن میں زشہزادوں اور درجنوں سابق اور موجودہ وزرا شامل تھے۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب کا قاتلوں کو ترکی کے حوالے کرنے سے انکار

مبینہ طور پر ان گرفتار افراد میں عرب کے امیر ترین آدمی شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل تھے، انہیں رواں برس جنوری میں رہا کیا گیا تھا۔

اپنی گرفتاری سے متعلق انہوں نے فوکس بزنس کو بتایا کہ ’ یہ حادثہ ہمارے ساتھ ہوا، ان میں سے اکثر درحقیقت بدعنوانی میں ملوث تھے‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ یہ ایک غلط فہمی تھی، میں اب باہر ہوں کوئی مسائل نہیں ہیں ، جو کچھ ہوا اسے معاف کرکے بھلایا جاچکا‘۔

جمال خاشقجی کے بیٹوں کا والد کی لاش حوالے کرنے کا مطالبہ

جمال خاشقجی کے بیٹوں نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے سعودی حکام سے اپنی والد کی لاش حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی باقاعدہ تدفین کی جاسکے۔

عبداللہ خاشقجی نے واشنگٹن میں امریکی نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’ میں امید کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا وہ ان کے لیے تکلیف دہ نہیں تھا یا بہت تیز تھا یا یہ کہ ان کی موت پُرامن تھی‘۔

مزید پڑھیں : ’پرتشدد تفتیش کے دوران سعودی صحافی کے ٹکڑے کیے گئے‘

ان کے بھائی صلاح نے کہا کہ ’ہم اس وقت یہ چاہتے ہیں کہ انہیں باقی خاندان کے ساتھ مدینہ میں واقع البقیع قبرستان میں دفن کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے سعودی حکام سے بات کی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ جلدی ہوجائے گا‘۔

ترکی کے چیف پراسیکیوٹر حالیہ بیان میں کہا کہ جمال خاشقجی جیسے ہی قونصل خانے میں داخل ہوئے ان کا گلا دبایا گیا تھا اور یہ بھی تصدیق کی کہ ان کی لاش کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کے مشیر نے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو قتل کرنے والوں نے ان کی لاش ٹھکانے لگانے کے لیے لاش کے ٹکڑے تیزاب میں حل کیے تھے۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کا قونصل خانے کے اندر صحافی کے قتل کا اعتراف

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب ملوث ہوا تو اسے سخت قیمت چکانا پڑے گی۔

17 اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے نے معروف صحافی کی مبینہ گمشدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کا دورہ اور سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ملتوی کردی تھی۔

اسی روز سعودی صحافی خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کا قتل: محمد بن سلمان کی بادشاہت خطرے میں پڑگئی؟

بعد ازاں گزشتہ روز سعودی عرب کے جلاوطن شہزادے خالد بن فرحان السعود نے الزام لگایا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی مبینہ گمشدگی کے پیچھے ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ ہے اور سعودی حکمراں کسی نہ کسی پر الزام دھرنے کے لیے 'قربانی کا کوئی بکرا' ڈھونڈ ہی لیں گے۔

دریں اثناء 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔