’دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو!‘

14 نومبر 2018

ای میل

آج ایک خبر نظر سے گزری کہ اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹروں نے ایک خصوصی کامیابی حاصل کی ہے اور وہ یہ کہ اب انہیں اجازت مل گئی ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو ’فطرت سے قربت‘ کا نسخہ بھی تجویز کرسکیں گے۔

جی ہاں، دنیا بھر میں علاج کے لیے ’فطرت کی قربت‘ یا گرین تھراپی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ ڈاکٹر اب دماغی اور نفسیاتی امراض خصوصاً ذہنی تناؤ، پژمردگی اور تیزابیت کے امراض میں بہتری کے لیے سرسبز فضا میں وقت گزارنے کا نسخہ تجویز کررہے ہیں۔

شہروں اور جدید دور کی سہولتوں کے درمیان رہائش اختیار کرکے انسان کچھ جسمانی آسودگی تو ضرور حاصل کرلیتا ہے لیکن شورشرابا، آلودگی، بند گھر اور مشینی طرزِ زندگی اس کے دماغ اور نفسیات پر بدترین اثرات مرتب کرتا ہے۔ ہماری نام نہاد شہری یا جدید زندگی ہماری جسمانی بھاگ دوڑ اور افعال کو کم کردیتی ہے۔ ہم سستی کے عادی ہوجاتے ہیں اور چھوٹے سے فاصلے کے لیے بھی گاڑیوں کے محتاج ہوجاتے ہیں۔

شہری زندگی میں عموماً ہمارا کھانا پینا، سونا جاگنا سب صحت کے اصولوں کے خلاف ہوجاتا ہے جس کے اثرات ہمارے جسم پر تو پڑتے ہی ہیں لیکن یہ سب ہمارے دماغ کو بھی متاثر کررہا ہوتا ہے۔ ہم دھیرے دھیرے دماغی امراض کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں فطرت کے قریب کچھ گھڑیاں گزارنا ہمارے دماغی افعال پر خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹروں نے کچھ دلچسپ سرگرمیاں تجویز کی ہیں جو کچھ یوں ہیں۔

  • کسی جہاز کے مستول پر بادبان لہرائیں اور باد بہاری کی رفتار کا لطف لیں۔
  • ساحل پر خوشگوار دھوپ میں فن پارے تخلیق کریں۔
  • اپنے لاڈلے کتے کے ساتھ چہل قدمی اور گھوڑے کے ساتھ باتیں کریں۔
  • پرندوں کو کھانا کھلائیں۔
  • سمندر کے ٹھنڈے پانی کے مزے لیں۔
  • کچھ وقت اپنا چہرہ گھاس میں چھپا لیجیے اور گھاس کی خنکی کا لطف اٹھائیں۔
  • ساحلوں کی صفائی کریں یا گھر کے باہر کھلی فضا میں رات کا کھانا تیار کریں۔
  • نیلگوں افلاک پر چھاتے سرمئی بادلوں کا نظارہ کریں۔

یاد رہے کہ یہ ’مغربی‘ مسیحاؤں کے نسخے ہیں، ہم اپنے ماحول کے مطابق فطرت پسند دلچسپیاں تلاش کرسکتے ہیں۔

ہاتھ کنگن کو آرسی کیا کے مصداق آپ چاہیں تو پہلے تجرباتی طور پر صرف ایک دن فطرت سے قربت کے لیے مختص کردیں۔ اپنی مصروف زندگی سے صرف ایک دن اپنی ذات کے لیے نکالیں اور اپنے قریب موجود فطری نظاروں کے بیچ کسی جھیل، چشمہ، آبشار یا جنگل میں گزاریے۔ کراچی کے لوگ ساحل کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ یقین کیجیے کہ جب آپ واپس آرہے ہوں گے تو اس دن کے کرشماتی اثرات محسوس کرچکے ہوں گے۔

فطرت سے قربت کے لیے کراچی کے لوگ ساحل کا انتخاب کرسکتے ہیں— تصویر بشکریہ اورین زیرہ
فطرت سے قربت کے لیے کراچی کے لوگ ساحل کا انتخاب کرسکتے ہیں— تصویر بشکریہ اورین زیرہ

صدیوں سے لوگ اس کا تجربہ کرتے آئے ہیں، حتیٰ کہ عبادات میں ذہنی یکسوئی کے لیے اولیاء کرام اور اللہ کے برگزیدہ بندے ایسی ہی جگہوں کا انتخاب کرتے تھے، اب سائنس بھی اس کی تصدیق کررہی ہے۔ اب اس طریقہءِ علاج کو گرین تھراپی اور ایسی سرگرمیوں کو گرین ایکسرسائز کہا جارہا ہے۔ ہم اسے سرسبز مشق بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایسی سرگرمیوں میں ہریالی میں چہل قدمی، سائیکل چلانا، کشتی رانی، ماہی گیری، پرندوں یا جانوروں کے لیے خوراک مہیا کرنا شامل ہیں۔

جب آپ کھلی فضا میں آتے ہیں تو سورج کی خوشگوار حدت آپ کے جسم و جاں پر فرحت بخش اثر ڈالتی ہے۔ یہ روشنی سیروٹنین (Serotonin) نامی کیمیکل کی مقدار ہمارے جسم میں بڑھاتی ہے۔ یہ کیمیکل ہمارے دماغی افعال میں توازن پیدا کرتا ہے، اس سے ہمارے اندر ایک خوشی کا احساس بھی جنم لیتا ہے اور اداسی اور مایوسی دُور ہوتی ہے۔ سورج کی روشنی صرف سیروٹنین ہی نہیں بلکہ میلاٹونین (Melatonin) نامی کیمیکل کی مقدار بھی بڑھاتی ہے جس سے ہمارے دماغ پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ہمیں گہری اور پُرسکون نیند آتی ہے۔

کھلی فضا میں رہنے کا دوسرا بڑا فائدہ صاف ہوا میں سانس لینے سے ملتا ہے۔ تازہ آکسیجن آپ کے جسم کے خلیوں کو صحت مند رکھتی ہے جس سے وہ صحت مند رہتے ہیں۔ تازہ ہوا اور آکسیجن ہمیں تر و تازہ اور توانائی سے بھرپور ہونے کا احساس دلاتی ہے، نیند بھی بہتر بناتی ہے اور دماغی انتشار کو ختم کرکے یکسوئی عطا کرتی ہے۔

اپنی مصروف زندگی سے صرف ایک دن اپنی ذات کے لیے نکالیں اور اپنے قریب موجود فطری نظاروں کے بیچ گزاریں— تصویر رمضان رفیق
اپنی مصروف زندگی سے صرف ایک دن اپنی ذات کے لیے نکالیں اور اپنے قریب موجود فطری نظاروں کے بیچ گزاریں— تصویر رمضان رفیق

کسی جھیل یا آب گاہ کے کنارے یا کسی جنگل میں وقت گزارنے سے کھلی فضا میں آپ فطرت کی آوازوں کو بھی سن سکتے ہیں۔ یہ آوازیں پرندوں کی چہچہاہٹ، جھرنوں اور آبشاروں کا ترنم، ہوا سے جھومتے درختوں کی سرسراہٹ، خشک پتوں کی چرچراہٹ، مینڈکوں کا ٹرانا اور جھینگروں کی جھنگراہٹ بھی ہوسکتی ہیں۔ یقین کیجیے یہ آوازیں دھیرے دھیرے آپ کا ذہنی تناؤ، اداسی اور پس مژدگی کو دُور کرتی جائیں گی۔ بند دماغ کی کھڑکیاں کھلنے لگیں گی۔ یہ آوازیں ہمارے دماغی افعال کے توازن کو بہتر کرتی ہیں اور ہماری مدد کرتی ہیں کہ ہم اپنی زندگی کے محدود دائرے سے باہر نکلیں اور قدرت کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کی تعریف کریں۔

دماغی تناؤ اور زندگی کی یکسانیت کو دور کرنے کا ایک طریقہ پودے لگانا یا شجرکاری بھی ہے۔ ہر نکلنے والا پتہ، پھول، کلی یا کونپل ہمیں ایک خوش امیدی عطا کرتی ہے۔ نوخیز کلی یا پھول ہمارے دل کو خوشی سے بھر دیتا ہے۔ گویا امید بر آنے لگتی ہے۔ مٹی کو چھو کر ہمیں ایک اچھوتا سا احساس ہوتا ہے۔ تکبر اور غرور سے دُور ہوکر ایک انکساری سی محسوس ہوتی ہے۔

دماغی تناؤ اور زندگی کی یکسانیت کو دُور کرنے کا ایک طریقہ پودے لگانا یا شجرکاری بھی ہے—تصویر اسحاق چوہدری
دماغی تناؤ اور زندگی کی یکسانیت کو دُور کرنے کا ایک طریقہ پودے لگانا یا شجرکاری بھی ہے—تصویر اسحاق چوہدری

گملوں کو مختلف رنگوں سے رنگ دیجیے جو نظر کو بھلے لگیں۔ اگر بڑی جگہ نہیں ہے تو بہت سے پودوں کو معلق انداز میں لٹکا دیجیے۔ روشن دان یا کھڑکی سے تھوڑی سی بھی دھوپ آتی ہو تو اسے منی پلانٹ کی بیل سے سجا دیجیے۔ اپنے لیے اپنے استعمال کی سبزیاں خود اگائیں۔ یہ سبزیاں ہر قسم کے کیمیکل سے پاک ہوں گی۔ ان کے ذریعے آپ کیلشیم، میگنیشیم، مختلف وٹامنز اور بہت سے کاربو ہائیڈریٹس حاصل کرسکتے ہیں۔

آپ اکثر کچن گارڈننگ یا گارڈننگ کا لفظ سنتے ہوں گے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کے پاس ہزاروں گز پر محیط گارڈن ہوگا تبھی آپ کام کرسکیں گے۔ اگر آپ کے پاس صرف ایک کھڑکی ایسی ہو جس میں سے دھوپ اندر آتی ہو تو آپ وہیں اس کھڑکی میں بہت کچھ اگا سکتے ہیں۔ جو دل چاہے اگائیے، اگر آپ پھولوں کے شوقین ہیں تو رنگا رنگ پھول اگائیے اور زندگی میں بھی رنگ بھر لیجیے۔

یہ ہرا بھرا شوق آپ کی صحت کے لیے کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ ماہرین کی تحاریر سے بھی لگا سکتے ہیں۔

صحت کے لیے کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں خصوصاً صحت کی عالمی تنظیم خبردار کررہی ہے کہ مصروف ترین مشینی زندگی نے ہم سے ہماری تفریحات چھین لی ہیں اور خصوصاً فطری مناظر سے ہمیں بہت دُور کردیا ہے۔ آسائشات نے ہمیں حد درجہ کاہل کردیا ہے اور جسمانی محنت کم سے کم ہوکر رہ گئی ہے، جس کا نتیجہ تباہ کن امراض کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

شہروں میں یہ صورت حال بد سے بدترین ہوکر رہ گئی ہے۔ پچھلے 25 برسوں میں دنیا کی آبادی کا تیز ترین بہاؤ شہروں کی طرف رہا ہے۔ اس سے زرعی زمینیں شہری استعمال مثلاً رہائشی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں، جنگل فالتو چیز سمجھ کر کاٹے جانے لگے اور ہرے بھرے علاقے کم سے کم ہوتے چلے گئے۔

شہری سرگرمیوں نے لوگوں کو کاہل بنایا اور جسمانی مشقت کی کمی نے انسانی صحت کو گھن لگادیا۔ کھانے کی زیادتی اور کاہلی نے موٹاپے کو بڑھ کر دعوت دی اور ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں نے انسانوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ اب تازہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ موٹاپا صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا بھی سبب ہے۔

تخمینہ ہے کہ دنیا بھر میں 19 لاکھ اموات کا سبب موٹاپا اور اس سے متعلقہ بیماریاں ہیں۔ صرف یورپی ممالک میں 2 سے 8 فیصد افراد کی بیماریوں اور 10 سے 13 فیصد اموات کا سبب کم بخت یہی موٹاپا ہے۔ اگر اس موٹاپے پر قابو نہ پایا گیا تو یہ ہر طرف تباہی مچا رہا ہوگا۔ صرف برطانیہ میں اگر 6 میں سے ایک شہری بھی بیمار ہوا تو نیشنل ہیلتھ سروسز کا قومی سطح پر خرچہ 12.5 بلین پاؤنڈ اور معیشت پر اس کے اثرات 13.1 بلین پاؤنڈ ہوگا۔ ہم ترقی پذیر لوگوں کا تو ذکر ہی کیا؟

مصروف ترین مشینی زندگی نے ہم سے ہماری تفریحات چھین لی ہیں اور خصوصاً فطری مناظر سے ہمیں بہت دور کردیا ہے—تصویر بشکریہ امجد علی سحاب
مصروف ترین مشینی زندگی نے ہم سے ہماری تفریحات چھین لی ہیں اور خصوصاً فطری مناظر سے ہمیں بہت دور کردیا ہے—تصویر بشکریہ امجد علی سحاب

تو پیارے قارئین، جب زندگی بہت سخت اور مشکل ہوجائے، زیست کی نبض رک سی جائے، سب کچھ بہت تلخ اور ناقابلِ برداشت ہوجائے تو یہ نسخہ آزمائیں۔ 100 فیصد اثر ہوگا (یہ میرا تجربہ بھی ہے)۔ ایسے میں اپنے روز و شب کی یکسانیت سے کچھ وقت نکالیں اور فطرت کی آغوش میں منہ چھپاکر دنیا کو فراموش کردیں۔ کوئی جنگل، کوئی جھیل کوئی ایسی جگہ جہاں آپ فطرت کو محسوس کرسکیں۔ دیکھیے علامہ اقبال بھی اپنی ‘ایک آرزو‘ میں ایسی ہی کچھ سوچ رکھتے تھے، پڑھیے اور سر دھنیے۔

دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب

کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

مرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میری

دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

آزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروں

دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں

چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو

گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا

ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو

ہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھونا

شرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہو

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل

ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو

صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں

ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو

ہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہ

پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو

آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ

پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو

پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی

جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو