سپریم کورٹ: زلفی بخاری کی نااہلی کیلئے دائر پٹیشن پر عمران خان و دیگر کو نوٹس

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2018

ای میل

زلفی بخاری — فائل فوٹو
زلفی بخاری — فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے زلفی بخاری نااہلی کیس میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے خصوصی مشیر زلفی بخاری سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے زلفی بخاری کی نااہلی سے متعلق عادل چٹھہ کی درخواست پر سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے زلفی بخاری کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں آپ کے موکل کس عہدے پر ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ زلفی بخاری وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں شامل

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ایک عام آدمی دوہری شہریت کی بنیاد پر وزیر بن سکتا ہے؟ دہری شہرت کا حامل شخص رکن اسمبلی نہیں بن سکتا تو وزیر بھی نہیں بن سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی مقرر کیا، میرے خیال سے آپ آرٹیکل 62 ون سی کے تحت درخواست لے کر آئے ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ جو کام بالواسطہ نہیں ہوسکتا وہ بلاواسطہ بھی نہیں ہوسکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا مشیر کا عہدہ صرف اس لیے ہے کہ جو منتخب ہونے کے اہل نہیں انہیں یہ عہدہ دے دیا جائے، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس طرح تو جہانگیر ترین کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ زلفی بخاری کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ موجود نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مشیر کے لیے آئین میں کوئی اہلیت نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: زلفی بخاری پر سے سفری پابندی ہٹانے کی درخواست مسترد

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے زلفی بخاری کے خلاف درخواست پر عمران خان اور زلفی بخاری سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت جمعہ تک کے لیے ملتوی کردی۔

26 ستمبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج کی گئی تھی۔

زلفی بخاری کا معاملہ

واضح رہے کہ 18 ستمبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی دوست ذوالفقار حسین بخاری عرف زلفی بخاری کو اپنا معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر کیا تھا۔

برٹش ورجن آئی لینڈز میں آف شور کمپنی کے انکشاف کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) زلفی بخاری کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آف شور کمپنیوں کے حامل تمام افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی، جس پر نیب نے انہیں بھی پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

مزید پڑھیں: زلفی بخاری وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی مقرر

زلفی بخاری نیب کے دیے گئے نوٹسز پر پیش نہیں ہوئے اور تیسرا نوٹس ملنے پر موقف اپنایا کہ چونکہ وہ غیر ملکی شہری ہیں اس لیے نیب ان سے تحقیقات کا حق نہیں رکھتا۔

نیب کی سفارش پر اگست میں وزارت داخلہ نے زلفی بخاری کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا تھا۔

زلفی بخاری کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب جون میں زلفی بخاری کو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے نجی جہاز سے سعودی عرب روانہ ہونے سے روک دیا گیا تھا تاہم جب عمران خان نے متعلقہ حکام سے خود بات کی تو انہیں ساتھ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

عمرے سے واپسی پر زلفی بخاری نے بلیک لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے ان کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی تقرری چیلنج

ایک ہفتے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے عدالت کو بتایا کہ نیب نے زلفی بخاری کا نام 'ای سی ایل' میں ڈالنے کی درخواست کی تھی لیکن نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے منظوری دینے والی ذیلی کمیٹی غیر فعال تھی، جس کی وجہ سے زلفی بخاری کا نام احتیاطی اقدام کے طور پر بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نتیجتاً وزارت داخلہ کو نیب کی درخواست پر زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی اجازت دے دی تھی۔