سری لنکا کی سپریم کورٹ نے تحلیل پارلیمنٹ بحال کردی

13 نومبر 2018

ای میل

سری لنکا کی سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے صدارتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کی تیاری روکنے کا حکم دے دیا۔

فرانسیسی خبررساں اداے اے ایف پی کے مطابق صدر میتھری پالا سری نے جمعے کی رات کو پارلیمنٹ کو تحلیل کرتے ہوئے 5 جنوری کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

مہندا راجاپکسے نے 2 ہفتوں قبل ہی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے صدر نے پارلیمنٹ معطل کردی

سری لنکا میں گزشتہ 2 ہفتوں میں اختیارات کی جنگ سامنے آئی جس کے بعد صدر سری سینا نے وزیر اعظم رنیل وکراما سنگے کو برطرف کرتے ہوئے سابق رہنما اور چین کے حمایتی راجاپکسے کو مقرر کیا تھا۔

رنیل وکراما سنگے کی پارٹی نے تحلیل کیے جانے کے اقدام کے خلاف پٹیشن دائر کی۔

چیف جسٹس نالین پریرہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

فیصلے کے وقت عدالت میں پولیس اور کمانڈوز کی بھاری نفری موجود تھی۔

مزید پڑھیں: سری لنکا: وزیر اعظم، 44 ایم پیز نے صدر کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی

عدالت نے صدر میتھری پالا سری سینا کے اعلان کو کالعدم قرار دے دیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ میں ووٹ کے ذریعے دیکھا جائے گا کہ میتھری پالا سری سینا کے نامزد کردہ متنازع امیدوار 225 ارکان اسمبلی سے اکثریت حاصل کرسکیں گے۔

اگر راجاپکسے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو رنیل وکراما سنگے کو دستبرار ہونا پڑے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں میتھری پالا سری سینا نے وزیر اعظم رانِل وِکریماسنگھے کی ذمہ داریاں کم کرتے ہوئے ان سے ملک کے مرکزی بینک، پالیسیاں مرتب کرنے والے نیشنل آپریشنز روز اور کئی دیگر اداروں سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار واپس لے لیا تھا۔

مزید پڑھیں: سری لنکا:راجہ پاکسےکوصدارتی انتخابات میں شکست

قبل ازیں 6 وزراء نے سری لنکا کی مشکل میں گھری ہوئی حکومت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر اعظم کی ’یونائیٹڈ نیشنل پارٹی‘ نے صدر میتھری پالا سری سینا کے ساتھیوں پر استعفوں کے لیے دباؤ بڑھا دیا تھا۔

میتھری پالا سری سینا نے حالیہ تحریک عدم اعتماد میں رانِل وِکریماسنگھے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا:راجہ پاکسےکوصدارتی انتخابات میں شکست

وزیر اعظم نے اقلیتی مسلم اور تامل جماعتوں کی مدد سے تحریک کو ناکام بنایا جس سے میتھری پالا سری سینا کو دھچکہ لگا، جنہوں نے رانِل وِکریماسنگھے کو عہدے سے ہٹانے کی مہم چلائی تھی۔

وزیر پیٹرولیم ارجونا راناٹُنگا نے کہا کہ ’جنہوں نے رانِل وِکریماسنگھے کے خلاف ووٹ دیا ان کے پاس حکومت میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔‘

اتحادی حکومت کے دونوں حریف گروپوں کے درمیان تعلقات فروری میں مقامی کونسل کے انتخابات میں دونوں کو نقصان کے بعد کھٹائی میں پڑ گئے تھے۔