کیا پاکستانی میڈیا اپنی قبر خود کھود رہا ہے؟

27 نومبر 2018

ای میل

پاکستان میں مرکزی دھارے کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا جس بحران میں گھرا ہوا ہے وہ اب شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

نامور شخصیات کے استعفوں اور برطرفیوں کی ایک لڑی کے بعد اب خبریں ہیں کہ کئی اشاعتیں جونیئر اسٹاف کو نکال رہی ہیں جبکہ کچھ کے بارے میں افواہیں ہیں کہ یہ مکمل طور پر بند ہو رہے ہیں۔ میڈیا کی صنعت میں کئی لوگوں کے لیے ایک مستقل خوف یعنی تنخواہوں کے اجرا میں تاخیر گزشتہ چند ماہ سے اب مزید بڑھتی جارہی ہے۔

اس زوال کے پیچھے کئی وجوہات ہیں اور مختلف جگہوں پر ان پر تفصیل سے بات ہوچکی ہے۔ ریاستی سنسرشپ کے خدشات، حکومت کی جانب سے اشتہارات کا منتخب اجرا اور میڈیا مالکان کے خراب کاروباری رویوں نے مل کر اس بحران میں کردار ادا کیا ہے۔

دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک میں مقامی صارفین کی مارکیٹ اور اس سے متعلقہ اشتہاری صنعت بظاہر اتنی بڑی نہیں کہ وہ کئی نجی میڈیا ہاؤسز کو سہارا دے سکے۔ چنانچہ حکومتی اشتہارات سے ریونیو اور میڈیا مالکان کے دیگر کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم اس مالیاتی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

پاکستان کے معاملے میں مسئلہ اس لیے بھی شدید ہے کیونکہ یہاں ٹی وی نیوز کے شعبے میں بہت زیادہ کھلاڑی ہیں جن میں سے کافی کا اس شعبے میں آنے کا فیصلہ ممکنہ طور پر میڈیا سے متعلق ارادوں کے سبب نہیں تھا۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا میڈیا مارکیٹ چوٹی کے اور گنے چنے چینلز/اخباروں میں تنخواہوں کے معقول تر اسٹرکچر کی صورت میں مختصر مدت میں خود کو درست کر پاتی ہے یا پھر یہ کہ اس بحران سے مزید 'ریگولیٹڈ' (اور دباؤ کا شکار) میڈیا جنم لے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں ان رجحانات سے خبروں اور معلومات کے مستقبل اور عمومی طور پر ثقافتی پراڈکشن اور اس کی عوام میں طلب کے حوالے سے بڑے سوالات جنم لیتے ہیں۔

دیگر تمام بحثوں کی طرح اس بحث کا بھی ابتدائی نکتہ پاکستان کی آبادی کے بارے میں حقائق (ڈیموگرافکس) اور اس کے 2 بنیادی ستونوں پر ہے: نوجوان آبادی کا حجم اور شہروں کی جانب منتقلی۔

پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے (29 فیصد آبادی 15 سے 29 سال عمر کی ہے) اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 40 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے اور یہی آبادی واقعتاً ملک کا مستقبل ہے۔

مگر اس میں بھی کچھ شرائط ہیں۔ تمام شہری علاقے ایک جیسے نہیں ہیں اور لسانی و طبقاتی فرق کا مختلف ثقافتی پہلوؤں سے تعلق تو ہے مگر مجموعی طور پر کئی حالیہ تحقیقات (مثلاً یو این ڈی پی کی نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ) نے دکھایا ہے کہ پاکستان بھر کے نوجوان ایک جیسے ہی خواب، ایک جیسی ہی امیدیں اور ایک جیسی ہی بے چینیاں رکھتے ہیں۔

یہ نوجوان اور شہری آبادی (اور اس کے تمام اندرونی فرق اور تقسیمیں) پاکستانی میڈیا اور ثقافتی پراڈکشن کی صنعت کی اگلی مارکیٹ ہیں۔ اور ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ خبریں یا تفریحی مواد فروخت کرنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں یا نہیں۔

میرے پیشے کی مجبوری ہے کہ مجھے 18 سے 23 سال کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد (نسبتاً صاحبِ ثروت) سے میل جول رہتا ہے۔ میں ان سے خبروں اور تفریح کے ان کے بنیادی ذرائع کے متعلق ضرور پوچھتا ہوں۔ کوئی بھی شخص جو نوجوانوں کے اردگرد رہا ہے وہ جانتا ہے کہ ٹی وی اور اخبارات کا شاید ہی کبھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اخبارات بشمول اس اخبار کے کالم پڑھنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹس شاید ان نوجوانوں سے زیادہ ہوں جو ان کالموں سے حادثاتی طور پر گزر جاتے ہیں۔ کسی اخبار کے صفحات پلٹ کر معلومات حاصل کرنے یا اکثر ہسٹیریائی حرکتیں کرنے والے نیوز اینکرز کے سامنے تجزیات و معلومات کے حصول کے لیے بیٹھنے کو اکثر اوقات قدیم اور بورنگ کہا جاتا ہے۔

اور اگر بات ثقافتی مواد کی آئے تو ان نسلوں کا یہ فرق اور بھی زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستانی مارکیٹ بھی اب انٹرنیٹ پر موجود آن ڈیمانڈ انٹرنیٹمنٹ کے لامتناہی سلسلے سے محفوظ نہیں ہے۔ گھروں تک انٹرنیٹ کی کم دستیابی (اور سابقہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی کے ظلم و ستم) کے باوجود تیز تر سیلولر سروس کے بتدریج پھیلنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کے ذریعے تفریح کا حصول شہری زندگی کا ایک خاصہ عام حصہ بن چکا ہے۔ اب نوجوانوں کے لیے آن لائن اسٹریمنگ سروسز (ادائیگی یا پائیریسی کے ذریعے حاصل کی گئی) اور فیس بک و یوٹیوب ویڈیوز کو انٹرٹینمنٹ کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

رجحان میں اس تبدیلی کا تعلق آف لائن ثقافتی پراڈکشنز سے بھی ہے اور اب لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں تھیٹر، ایونٹس، یہاں تک کہ اسٹینڈ اپ کامیڈی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو نوجوانوں کی حساسیت اور ترجیحات کو بہتر طریقے سے تسکین پہنچا سکتے ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی فارمیٹ یا کوئی بھی مواد ہمارے مرکزی دھارے کے ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آتا۔

آبادی کے بڑے حصوں میں ثقافتی تبدیلیوں کا واضح فرق ہمارے ملک میں میڈیا کے مستقبل پر پڑے گا۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا معلومات اور تفریح کے لیے ذوق اور ترجیحات روایتی، سنجیدہ اور یوں مستقبل میں بھی آج کے مواد کو پسند کرنے والے بن جائیں گے یا نہیں۔ یہ تصور کہ نوجوان اپنے والدین جیسے بن جائیں گے درحقیقت نسلوں کے درمیان اس خلیج کی وسعت اور اس خلیج کے بڑھنے کی رفتار کو مدِ نظر نہیں رکھتا۔ یہ وقت 1980ء کی دہائی جیسا نہیں ہے جب کوئی پی ٹی وی پر 7 سال کی عمر میں کارٹون دیکھتا تھا اور پھر 15 سال بعد خبرنامہ دیکھنا شروع کر دیتا تھا۔

کمرشل خدشات کے علاوہ ثقافتی مواد کی طلب کے واضح سیاسی نتائج بھی ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر خبروں اور تجزیات کا معیار بہت ہی ناہموار ہے اور جھوٹی خبروں یا فیک نیوز کی حقیقت لازماً نوجوانوں کی سیاست میں توجہ پر اثرانداز ہوتی ہے۔

خبروں کے روایتی ذرائع کے مستقبل کے بارے میں خدشات کے علاوہ نوجوانوں کے انٹرنیٹ پر سیاسی میل جول و گفتگو کے حوالے سے بھی خدشات ہیں جو اکثر غیر فلٹر شدہ، حقائق سے بالاتر اور انتہائی جانبدار ہوتے ہیں۔ چنانچہ آپ کس طرح ایسے ناظرین یا قارئین تیار کرسکتے ہیں جو حقیقت پسندانہ رپورٹنگ اور تجزیات پسند کریں اور پھر ان نوجوانوں تک اسی زبان اور انہی تکنیکوں کے استعمال کے ذریعے پہنچا جائے جو ان کی ترجیح ہے اور جس سے وہ سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔

اب جبکہ پاکستان میں میڈیا کے مستقبل کے بارے میں بحثیں زور پکڑ رہی ہیں تو یہ اور دیگر سوالات اہمیت کے حامل ہیں۔ قابلِ فہم ہے کہ میڈیا کی آزادی اور میڈیا کارکنان کے مالیاتی تحفظ پر ہماری سب سے زیادہ توجہ ہوگی۔ مگر شاید اس سے بھی زیادہ اہم یہ متوازی بحث شروع کرنا ہے کہ میڈیا اس وقت کس کے ذوق، ترجیحات اور دلچسپیوں کا تحفظ کر رہا ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی مستقبل میں جا کر میڈیا کی قبر بن جائے؟

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 19 نومبر 2018 کو شائع ہوا۔