• KHI: Fog 18°C
  • LHR: Partly Cloudy 25.1°C
  • ISB: Heavy Rain 18.7°C
  • KHI: Fog 18°C
  • LHR: Partly Cloudy 25.1°C
  • ISB: Heavy Rain 18.7°C

لاہور ہائیکورٹ: مسجد بند کرنے کے معاملے پر سی سی پی او طلب

شائع November 30, 2018 اپ ڈیٹ November 30, 2018 02:05pm
لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں حکومتِ  پنجاب کے ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو فریق بنایا گیا ہے —فائل فوٹو
لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں حکومتِ پنجاب کے ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو فریق بنایا گیا ہے —فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی کے زیر انتظام مسجد کو بند کرنے کے معاملے پر کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کو 3 دسمبر کو طلب کرلیا۔

ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل سنگل بینچ نے جامع مسجد رحمتہ للعالمین کو بند کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

مسجد کی بندش کے خلاف مذکورہ درخواست شہری طارق عزیز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جن کی جانب سے وکیل طاہر منہاس ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: خادم حسین رضوی کو 'حفاظتی تحویل' میں لیا گیا ہے، وزیر اطلاعات

درخواست میں حکومتِ پنجاب ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ مولانا خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد سے مسجد کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا جہاں نہ اذان دی جارہی ہے اور نہ ہی نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مسجد کے پانی، بجلی اور گیس کے کنیکشن بھی منقطع کر دیے گئے ہیں۔

وکیل درخواست گزار کا موقف تھا کہ مسجد اللہ کا گھر ہے اس کو کسی جماعت یا گروہ سے منسوب نہیں کیا جائے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہمارے ملک کا آئین کسی مسجد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس لیے مسجد کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا جائے اور وہاں اذان دینے اور نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔

مزید پڑھیں: حکومت سے معاہدہ طے پاگیا، مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ 23 نومبر کو ٹی ایل پی کے سربراہ خادم حسین رضوی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا تھا۔

بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 'خادم حسین رضوی کو حفاظتی تحویل میں لے کر مہمان خانے منتقل کیا گیا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس کارروائی کی ضرورت تحریک لبیک کے 25 نومبر کی احتجاجی کال واپس نہ لینے کی وجہ سے پیش آئی کیونکہ عوام کی جان و مال اور املاک کی حفاظت حکومت کا اولین فرض ہے'۔

کارٹون

کارٹون : 2 اپریل 2026
کارٹون : 1 اپریل 2026