ناصر جمشید سمیت 3 کرکٹرز پر برطانیہ میں فرد جرم عائد

اپ ڈیٹ 20 دسمبر 2018

ای میل

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناصر جمشید پر 10سال کی پابندی عائد کی تھی— فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناصر جمشید پر 10سال کی پابندی عائد کی تھی— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے سابق اوپننگ بلے باز ناصر جمشید اپنے کیریئر کے انتہائی بدترین دور سے گزر رہے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے پابندی کے بعد اب برطانوی پولیس نے بھی ان پر فرد جرم عائد کردی ہے۔

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے رشوت لینے کے الزام میں دو بنگلہ دیشی کرکٹرز کے ساتھ ساتھ ناصر جمشید پر بھی فرد جرم عائد کردی۔

مزید پڑھیں: شرجیل خان کی جلد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا امکان

برطانوی ایجنسی نے بتایا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے قومی کرکٹ بورڈز کی جانب سے منعقد کردہ ٹورنامنٹس میں اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں ان تینوں افراد پر رشوت لینے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی نے بتایا کہ برطانوی شہری 35 سالہ یوسف انور اور 33 سالہ محمد اعجاز کے ہمراہ پاکستان کے ناصر جمشید کو فروری 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ان تینوں افراد کو 15 جنوری 2019 کو پہلی مرتبہ مانچسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں نیشنل کرائم ایجنسی، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے انسداد کرپشن یونٹس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

2017 میں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناصر جمشید کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا اور رواں سال 17 اگست کو 10سال کی پابندی عائد کردی تھی۔