العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنس فیصلہ، نواز شریف اسلام آباد پہنچ گئے

اپ ڈیٹ 23 دسمبر 2018

ای میل

نواز شریف  کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایاجائے گا — فائل فوٹو
نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ کل سنایاجائے گا — فائل فوٹو

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر کیے گئے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سننے کے لیے اسلام آباد پہنچے اور پارلیمنٹ ہاؤس کے منسٹرز انکلیو میں شہباز شریف سے ملاقات کی۔

نواز شریف آج صبح اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے منسٹرز انکلیو میں نیب کے زیر حراست اپنے بھائی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ شہباز شریف 5 اکتوبر سے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں جاری تحقیقات کے باعث قومی احتساب بیورو (نیب ) کی تحویل میں ہیں۔

مزید پڑھیں : العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنسز: نواز شریف کی فیصلے کا دن بدلنے کی درخواست

ذرائع کے مطابق منسٹر انکلیو میں شریف برادران کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ریفرنسز کے متوقع فیصلے پر سیاسی حکمت عملی اور پارٹی امور پر بات چیت کی گئی۔

نواز شریف اسلام آباد میں اہم ملاقاتوں کے بعد مری روانہ ہوں گے اور احتساب عدالت کا فیصلہ سننے کے لیے کل واپس اسلام آباد آئیں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز بھی فیصلہ سننے کے لیے اسلام آباد جائیں گیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنما بھی احتساب عدالت جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں : العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کے فیصلے سے قبل نواز شریف کی اسلام آباد آمد

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ کل (پیر 24 دسمبر کو) صبح 9 بجے سے 10 بجے کے درمیان سنایا جائے گا ۔

نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کا فیصلہ آنے پر پارٹی کارکنوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ردعمل کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے امن عامہ بحال رکھنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی۔

اس سلسلے میں اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سخت سیکیورٹی کے اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک، نیب کے تفتیشی افسران اور دیگر عملے کو بھی سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی تفصیلات

28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکینت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ وزارتِ عظمیٰ سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف نیب کو تحقیقات کا حکم دیا، سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ نیب ریفرنسز کو 6 ماہ میں نمٹایا جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق نیب نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس تیار کیا تھا جبکہ نواز شریف، اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس بنایا تھا۔

مزید پڑھیں : احتساب عدالت نے نواز شریف کےخلاف ریفرنس میں 5ویں بار توسیع مانگ لی

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ان تینوں ریفرنسز کی سماعت کررہے تھے۔

20 اکتوبر 2017 کو نیب کی جانب سے فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے حوالے سے دائر ریفرنس کے سلسلے میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر فردِ جرم عائد کی تھی اور ان کے دو صاحبزادوں، حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزمان قرار دیا تھا۔

6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی ایون فیلڈ ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال اور کیپپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

بعد ازاں شریف فیملی نے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد دیگر دو ریفرنسز العزیریہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج ارشد ملک کو سونپ دی گئی تھی جنہوں نے 19 دسمبر کو ان دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنسز:عدالت نے نواز شریف کی درخواست منظور کرلی

ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں تھیں جنہیں 16 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔

سزا معطلی کی درخواستوں میں تاخیری حربے استعمال کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی قومی احتساب بیورو کو 10 ہزار روپے جرمانہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ 20 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرمان کی جانب سے سزا کے خلاف دائر کی گئیں اپیلوں پر سزا معطلی کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا۔

عدالتی چھٹیوں کے بعد اس کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : کرپشن میرے قریب سے نہیں گزری، نواز شریف

19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی۔

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔