بلوچستان: بلدیاتی حکومتوں کا احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2019

ای میل

میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان کاکڑ—فائل فوٹو
میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان کاکڑ—فائل فوٹو

کوئٹہ: بیوروکریسی کو مداخلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کوئٹہ اور خضدار شہر کے میئرز اور ضلعی کونسل کے چیئرمینوں نے ’بلدیاتی اداروں کے ساتھ ناانصافی‘ پر بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔

اس سلسلے میں پریس کانرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلدیاتی نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی گزشتہ 4 سالوں میں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

پریس کانفرنس میں میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ خان کاکڑ، میئر خضدار میر عبدالرحیم کرد، پشین کی ضلعی کونسل کے چیئرمین عیسیٰ روشن، قلعہ عبداللہ کے چیئرمین ملک عثمان اچکزئی اور دیگر ضلعی اور میونسپل کارپوریشن کے چیئرمینوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: 15 غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں پر کام روک دیا گیا

ان افراد کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا تو متعلقہ حکام نے انہیں اختیارات دینے سے انکار کردیا اور ان کے فرائض کی انجام دہی میں بھی رکاوٹیں ڈالیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا لیکن انہیں ان کے جائز حقوق نہیں دیے گئے۔

اس موقع پر ڈاکٹر کلیم اللہ خان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو صوبائی حکومت کا شراکت دار بنایا جائے اور ترقیاتی فنڈز کا 40 فیصد حصہ دیا جائے، حکومت اور بیورو کریسی فنڈز جاری کرنے کے بجائے اسی فنڈز کو خود استعمال کررہی ہے۔

اس کے ساتھ بلدیاتی حکومت کے میئرز اور چیئرمینز نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بلدیاتی حکومتوں ، جن کی مدت 28 جنوری کو ختم ہورہی ہے اس میں 28 مارچ تک توسیع کی جائے۔

مزید پڑھیں: سی پیک میں بلوچستان کے ’معمولی‘ حصے پر کابینہ اراکین حیرت زدہ

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال علیانی ان کا مطالبہ منظور کریں گے اور فنڈز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔

علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے رواں مالی سال میں بلدیاتی اداروں کو ملنے والے فنڈز میں کمی کردی ہے۔


یہ خبر 11 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔