خاشقجی قتل: اقوام متحدہ کی ٹیم کا استنبول میں سعودی قونصل خانے کا دورہ

29 جنوری 2019

ای میل

اقوام متحدہ کی 3 رکنی ٹیم ترکی کے ایک ہفتے کے دورے پر ہے — فوٹو: اے پی
اقوام متحدہ کی 3 رکنی ٹیم ترکی کے ایک ہفتے کے دورے پر ہے — فوٹو: اے پی

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی اقوام متحدہ کے عالمی ماہرین کی ٹیم نے استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کا دورہ کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگنیس کیلامارڈ کی سربراہی میں عالمی ماہرین کی 3 رکنی ٹیم نے جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے لیے سعودی قونصل خانے کا بیرونی دورہ کیا لیکن اندر داخل نہیں ہوئے۔

اگنیس کیلامارڈ نے کہا کہ قونصل خانے میں داخل ہونے کے لیے سعودی حکام کی اجازت کا انتظار کررہے ہیں اور اس سلسلے میں ان سے رابطے میں ہیں۔

مزید پڑھیں: جمال خاشقجی قتل کی تفتیش کیلئےاقوام متحدہ کی ٹیم تشکیل

جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی سربراہ، ماورائے قانون سزاؤں سے متعلق اقوام متحدہ کی اسپیشل رپورٹر اور کولمبیا یونیورسٹی میں فرنچ اکیڈمک اور کولمبیا گلوبل فریڈم آف ایکسپریشن کی ڈائریکٹر اگنیس کیلامارڈ نے کہا کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو جون میں رپورٹ پیش کریں گی۔

اگنیس کیلامارڈ اپنی ٹیم کے ہمراہ ترکی کے ایک ہفتے کے دورے پر ہیں، انہوں نے ترکی کے وزرائے خارجہ اور انصاف سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کی استنبول کے چیف پروسیکیوٹر سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خاشقجی قتل: ’سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے‘

ترک صدر کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کو ترکی آمد پر خوش آمدید کہا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ ہم تاحال نہیں جانتے کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے، ان کے قتل کا حکم کس نے دیا اور اس قتل میں مقامی مددگار کون تھا؟‘۔

خیال رہے کہ 25 جنوری کو اقوام متحدہ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے کولمبیا یونیورسٹی کی اگنیس کیلامارڈ کی سربراہی میں عالمی ماہرین کی 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی۔

یاد رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھنے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو ترکی میں سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے لیکن پھر ان کی واپسی نہیں ہوئی تھی، جس کے بعد ان کے قتل کی خبر آئی تھی جبکہ ترک حکام نے تفتیش کے بعد ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی۔

امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے حوالے سے 17 نومبر 2018 کو امریکی ذرائع ابلاغ میں رپورٹس آئی تھیں کہ ایجنسی کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب جمال خاشقجی کے قاتلوں کا ’احتساب‘ یقینی بنائے، مائیک پومپیو

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سی آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 15 سعودی ایجنٹ سعودی طیارے کے ذریعے استنبول آئے اور سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کو قتل کیا۔

سعودی عرب نے اس رپورٹ میں سی آئی اے کی تحقیقات کے حوالے سے دی گئی تفصیلات کو فوری طور پر مسترد کر دیا تھا تاہم اس حوالے سے ابتدائی تفتیش کے بعد کیس کی سماعت بھی شروع کردی تھی اور متعدد عہدیداروں کو بھی برطرف کردیا تھا۔

دوسری جانب ترکی نے بھی تفتیش کی تھی جس میں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا تاہم صدر رجب طیب اردوان نے واضح کیا تھا کہ سعودی فرمان روا شاہ سلمان کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اس حوالے سے ترکی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اس شخص کی شناخت ظاہر کرنی چاہیے جس نے جمال خاشقجی کی لاش کو ٹھکانے لگایا اور اس قتل کے تمام ذمہ داران کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت 3 جنوری 2019 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی عدالت میں ہوئی تھی جس میں اٹارنی جنرل نے 11 نامزد ملزمان میں سے 5 کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت کے زیادہ تفصیلات میڈیا پر نہیں آئی تھیں تاہم اے ایف پی کے مطابق سعودی پریس ایجنسی نے بتایا تھا کہ تمام نامزد 11 ملزمان اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔