سعودی عدالت میں جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2019

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی عدالت میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کردیا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی پریس ایجنسی حکام نے بتایا کہ ریاض کی عدالت میں 11 ملزمان اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: خاشقجی کا قتل سنگین غلطی تھی، سعودی وزیر خارجہ

مذکورہ کیس سے متعلق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق شواہد کی فراہمی کے لیے ترکی سے دو مرتبہ درخواست کی تاہم استنبول کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو جمال خاشقجی اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں ہونے والے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ’11 ملزمان کے نام تاحال جاری نہیں کیے گئے‘۔

دوران سماعت وکیل دفاع نے عائد کردہ فرد جرم کی نقول کی درخواست کی اور اس پر نظر ثانی کے لیے وقت طلب کیا۔

مزیدپڑھیں: ’خاشقجی قتل کی تحقیقات میں محمد بن سلمان بے گناہ ثابت ہوں گے‘

مقدمے کی اگلی سماعت کب ہوگی، اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی عالمی اشاعتی ادارے واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھاری تھے۔

ترک حکام کے مطابق 59 سالہ جمال خاشقجی کو قتل اور ان کی لاش کے ٹکڑے کرنے کی غرض سے 15 سعودی افراد استنبول پہنچے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ان کی باقیات برآمد نہیں ہو سکیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ ان کی لاش کو تیزاب میں زائل کردیا گیا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’قوی امکان ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ہی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا ہو‘۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی قتل: ’ہمیں نہیں معلوم کہ لاش کہاں ہے‘

سی آئی اے کے الزام کے تناظر میں گزشتہ نومبر میں سعودی اٹارنی جنرل نے سعودی ولی عہد کی قتل میں ’ملوث‘ ہونے کا امکان بھی رد کردیا تھا۔