پاکستان مالی بحران سے نکل گیا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

اپ ڈیٹ 19 فروری 2019

ای میل

طارق باجوہ کے مطابق معیشت میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوچکا ہے — فوٹو بشکریہ: بلوم برگ
طارق باجوہ کے مطابق معیشت میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوچکا ہے — فوٹو بشکریہ: بلوم برگ

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کی مدد اور معیشت کے صحیح سمت پر گامزن ہونے سے پاکستان مالی بحران سے نکل چکا ہے۔

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوچکا ہے، حکومت نے اب درست راستے پر ہے اور اب وہ تمام معاشی چیلنجز کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے موجودہ مالی خسارے کے حوالے سے بات کی جس کی وجہ سے رواں مالی سال کے خسارے میں بری طرح اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان،شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ

موجودہ مالی خسارہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے لیے تشویش کا اصل سبب ہے۔

عمران خان نے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملیشیا اور ترکی جیسے دوست ممالک کا دورہ کیا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری لائی جاسکے اور بیرونی خسارے کو کم کرنے کے لیے مالی معاونت حاصل کی جاسکے۔

طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خسارہ ملک کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے اور حکومت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے پیکج کے لیے اب بھی مذاکرات کر رہی ہے تاکہ اسے کم کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کی حد کو عبور نہیں کیا، انہوں نے سینٹرل بینک سے 3 کھرب روپے لیے تھے جس میں سے 2 کھرب روپے واپس کیے جاچکے ہیں۔

نئے مالی سال کے آغاز سے بجٹ میں مدد کے لیے حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض لے رہی ہے جبکہ اس پر بینکوں کے سابقہ قرض بھی ہیں جو تقریباً 2.9 کھرب ڈالر ہے۔

پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت بینکوں کو لیکوئیڈ (آسانی سے زرِ نقد میں تبدیل ہو نے کی صلاحیت) میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ نجی شعبے بیکنگ نظام سے مزید قرض حاصل کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 1 ارب ڈالر منتقل کر دیئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق نجی شعبوں کے قرضہ جات یکم جولائی سے 8 فروری تک تقریباً دوگنے سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں جو 164 ارب روپے سے 571 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر کا کہنا تھا کہ بینکنگ کورٹس میں 600 ارب روپے تک کے کیسز زیر التوا ہے اور ان بڑی تعداد میں کیسز سے کو دیکھنے اور ان کے فوری فیصلوں کے لیے عدالت کی صلاحیت میں اضافہ کرنے پر کام کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کیسز پر فوری فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ بینک ان مقدمات میں ملوث رقم کا استعمال کرسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے عدالت کی معاونت کے لیے ججز کی تربیت کے اخراجات اٹھانے کی پیشکش کی ہے تاکہ زیر التوا کیسز کا فوری فیصلہ کیا جاسکے۔

طارق باجوہ کا کہنا تھا کہ موجودہ خسارے کی بنیادی وجہ روپے کی قدر کم کرنے کی پالیسی تھی۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 19 فروری 2019 کو شائع ہوئی