پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں صحافی سمیت کشمیری نوجوانوں پر حملے

اپ ڈیٹ 27 فروری 2019

ای میل

نوجوان کشمیری صحافی کو پونے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا—فوٹو:بشکریہ انڈین ایکسپریس
نوجوان کشمیری صحافی کو پونے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا—فوٹو:بشکریہ انڈین ایکسپریس

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت میں موجود کشمیریوں پر پے در پے حملے جاری ہیں جہاں دارالحکومت نئی دہلی میں 3 کشمیری نوجوان اور ایک صحافی پر پونے میں حملہ کیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے علاقے نین گلوری میں تین کشمیری نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک اور واقعہ بھارتی شہر پونے میں پیش آیا جہاں 24 سالہ کشمیری صحافی جبران نذیر پر بھی تشدد کیا گیا۔

صحافی جبران نذیر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ پونے کے ایک اخبار سے منسلک ہیں اور حملہ آوروں نے کہا کہ وہ انہیں واپس کشمیر بھیج دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے ‘مبینہ طور پر زیر حراست نوجوان کے خلاف ’پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، اس قانون کے تحت کسی بھی فرد کو بغیر کسی ٹرائل کے 6 مہینے تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔

چھتپورا کے ایک رہائشی مزمل غنائی کو بھی جموں کی بھلوال جیل منتقل کیا گیا ہے جنہیں پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ: بھارت معلومات دے پاکستان تعاون کرنے کو تیار ہے، عمران خان

مزمل غنائی کو پولیس نے بھارتی سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں گزشتہ ہفتے گرفتار کیا تھا جبکہ ان کے اہل خانہ نے پولیس کے موقف کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز اپنے حکم میں کشمیریوں کے تحفظ کی ہدایت کی تھی جو 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فوج پر ہونے والے حملے کے بعد مختلف علاقوں میں تشدد کا شکار ہیں۔

بھارتی کی عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت اور پولیس سربراہان کو ہدایت کی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بم دھماکوں پر کسی کو بھی ‘حملہ، دھمکی یا سوشل بائیکاٹ’ سے بچانے کو یقینی بنائیں۔

یاد رہے کہ 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فوج کی گاڑی پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 44 فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کو مقبوضہ وادی کو گزشتہ 30 برس کے دوران بدترین حملہ کہا گیا ہے۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد 700 سے زائد کشمیری طلبا، مزدور اور تاجر بھارت کے مختلف علاقوں سے حملوں کے خوف سے واپس کشمیر منتقل ہوچکے ہیں جو بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کا بھی شکار ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: پلوامہ حملہ: بھارت نے وزیراعظم عمران خان کی تحقیقات کی پیشکش مسترد کردی

پاکستان نے پلوامہ حملے کے حوالے سے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قابل عمل ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان پر الزامات اور دھمکیوں کے بعد شہریوں کی جانب سے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا اور سامنے آنے والی پرتشدد ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کشمیریوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے لیے بعض بھارتی ٹی چینلز اور ہندو متشدد گروہوں کی جانب سے بھرپور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

بھارتی جامعات میں زیر تعلیم چند کشمیریوں کو سوشل میڈیا میں اس حوالے سے موقف پر معطل کردیا گیا اور دیگر کئی افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کردیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بد سے بدتر ہوچکی، وزیرخارجہ

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو اپنے خط میں مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’جنگ کوئی تفریح نہیں’، را کے سابق سربراہ کا بھارتی حکومت کو انتباہ

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت ‘بد سے بدتر’ میں بدل گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ‘بھارت کی جابن سے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ سیاسی مذاکرات سے انکار کیا اور کشمیری مظاہرین پر پیلٹ گنز استعمال کیا اور اس وقت کشمیریوں کو مارنے کے احکامات کافی نہیں تھے کہ ان کے خلاف نفرت اور جرائم کی ایک نئی مہم شروع کردی گئی ہے اور بھارت بھر میں انہیں تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ 'یہاں تک کہ بھارتی حکومت نے انتہاپسند عناصر کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف جرائم کی خوف ناک کارروائیوں پر خاموشی اختیار کرلی ہے'۔

وزیرخارجہ نے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو ان کی شناخت اور لسانی بنیاد پر کسی قسم کا نقصان پہنچنے سے تحفظ کے لیے بدستور نگرانی کی جائے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنے خط میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'میں اس معاملے پر آپ کو زور دے رہا ہوں کہ بھارت سے اقوام متحدہ اور آپ کی رسائی مقبوضہ کشمیر تک دلانے کا مطالبہ کیا جائے اور بھارت، مقبوضہ کشمیر میں عالمی انسانی حقوق کا احترام کرے'۔