جماعت الدعوۃ کے زیرانتظام اداروں کا کنٹرول حکومت نے سنبھال لیا

ای میل

اسلام آباد میں اوقاف نے جماعت الدعوہ کے مدارس و مساجد کو اپنے کنٹرول میں لیا—فوٹو:اے پی
اسلام آباد میں اوقاف نے جماعت الدعوہ کے مدارس و مساجد کو اپنے کنٹرول میں لیا—فوٹو:اے پی

وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں متعلقہ حکومتوں نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ (جے یوڈی) اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) کے کئی مدارس اور اداروں کو اپنے انتظام میں لے لیا یا پھر سیل کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ماتحت محکمہ اوقاف نے وفاقی دارالحکومت میں کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام مساجد و مدارس کا انتظام سنبھال لیا۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ محکمہ اوقاف نے ان مساجد کو مدارس کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

مزید پڑھیں: حماد اظہر، مفتی عبدالرؤف سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 کارکنان زیرحراست

ذرائع کے مطابق جن مساجد و مدارس کا انتظام سنبھالا گیا ان میں مسجد قبا، مدرسہ خالد بن ولید، مدرسہ ضیاالقرآن، مدنی مسجد اور علی اصغر مسجد شامل ہیں، یہ تمام مساجد و مدارس وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔

اسی طرح محکمہ اوقاف نے مساجد کے نئے امام اور خطیب مقرر کردیے جبکہ مولانا یاسین کو مسجد قبا سے ہٹا کر مولانا عبدالحفیظ کو خطیب مقرر کردیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مدنی مسجد سے مولانا اظہر عباسی کو ہٹاکر مولانا عمر فاروق کو خطیب مقرر کردیا گیا جبکہ مسجد علی اصغر سے خطیب یارمحمد کی جگہ قاری محمد صدیق کو مقرر کیا گیا ہے۔

ان تمام مساجد ومدارس کو نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کے سلسلے میں حکومتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی احکامات کی روشنی میں راولپنڈی میں کالعدم جماعت الدعوۃ کی 2 ڈسپنسریز، ہسپتال اور مدرسے کو سیل کردیا۔

ذرائع نے ڈان نیوز کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں جماعت الدعوۃ کے چاکرہ اور اڈیالہ روڈ پر قائم ابوبکر ہسپتال، مدرسہ اور 2 فلاحی ڈسپنسریوں کو سیل کردیا گیا ہے، تاہم کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی تنصیبات کی مکمل فہرست تیار کرلی گی ہے جہاں کارروائی کی جائے گی۔

علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی میں سیف اللہ لودھی روڈ پر جماعت الدعوۃ کا مرکز القدس اور اس میں قائم ڈسپنسری بھی سرکاری تحویل میں لے لی۔

انتظامیہ نے ڈسپنسری پر محکمہ صحت پنجاب کا سبز بورڈ لگادیا جبکہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی ایمبولینس کو بھی تحویل میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جماعت الدعوہ سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کے زیرانتظام چلنے والے اداروں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور ضلعی انتظامیہ اسی کے تحت کارروائی کر رہی ہے تاہم ذرائع نے واضح کردیا کہ اس دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز چکوال کے مختلف علاقوں میں جماعت الدعوہ کے تحت چلنے والے مدرسوں اور اس کے اسٹاف کو وفاقی محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا تھا جس میں تلہ گنگ میں مدرسہ خالد بن ولید ور چکوال ریلوے روڈ میں مدرسہ دارالسلام شامل ہے۔

سندھ میں کالعدم تنظمیوں کے خلاف کارروائی

سندھ حکومت نے بھی وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے اسکولوں، ہسپتالوں اور مدارس سمیت 56 اداروں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مشیر برائے اطلاعات، قانون اور اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم کے تمام اثاثوں کو کنٹرول میں لیے جانے کے بعد اسی قانون کے تحت سندھ حکومت نے بھی صوبے میں قائم مدارس اور فلاحی تنظیم کے دفاتر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ کالعدم تنظیم کے زیر انتظام چلنے والے تمام اسکولوں، ہسپتالوں اور مدارس کو مفاد عامہ کے لیے حکومتی احکامات کی روشنی میں بدستور جاری رکھا جائے گا اور کوئی فرد ان اداروں کی خدمات سے انکار نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کا تمام اسٹاف حکومت کے معیار اور طریقہ کی وضاحتی جانچ کے بعد اپنی خدمات کو جاری رکھ سکے گا۔

وزیراعلیٰ کے مشیر نے کہا کہ سندھ بھر میں 31 اسکول، 16 مدارس اور 9 ہسپتالوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے جس میں سب سے زیادہ کراچی میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں ان اداروں کو کراچی ڈویژن اور ضلعی سطح پر چلانے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ صوبائی کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری داخلہ بطور چیئرمین کریں گے اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) پولیس اسپیشل برانچ، اسپیشل سیکریٹری تعلیم، اسپیشل سیکریٹری صحت اور محکمہ اوقاف کے چیف ایڈمنسٹریٹر اس کمیٹی کے اراکین میں شامل ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام اداروں کو سندھ حکومت کی سرپرستی میں چلایا جائے گا اور تمام اخراجات بھی صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے اگر کسی نے حکومت کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

بلوچستان حکومت کی کارروائی

بلوچستان حکومت نے بھی کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے مختلف اثاثے اپنی تحویل میں لے لیے۔

ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کوئٹہ طاہر ظفر عباسی کے مطابق فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جماعت الدعوۃ کے کوئٹہ میں تمام اثاثے تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ان تنظیموں کے چار مدارس، اسکولوں اور ڈسپنسری کو ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

ڈی سی کوئٹہ طاہر ظفر عباسی نے کہا کہ ان اداروں سے تنظیموں کے بورڈ اتار کر ضلعی انتظامیہ نے اپنے بورڈ لگا دیے ہیں اور چار ایمبولینسز بھی تحویل میں لے کر سول ہسپتال کوئٹہ کے حوالے کردی گئی ہیں۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دیگر شہروں چمن، پشین اور حب میں بھی کالعدم تنظیموں کے مدارس تحویل میں لے لیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اسی تناظر میں گزشتہ روز سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر اور مفتی عبدالرؤف سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 افراد کو ’اصلاحی حراست‘ میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کالعدم تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنے کیلئے حکم جاری کردیا

وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور سیکریٹری داخلہ سلیمان خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذکورہ اقدام کی تصدیق بھی کی تھی۔

سیکریٹری داخلہ نے بتایا تھا کہ گرفتار ہونے والے افراد میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے بیٹے حماد اظہر اور بھائی مفتی عبدالرؤف شامل ہیں۔

تاہم پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لینے کا فیصلہ پاکستان کا ہے اور یہ کارروائی آئندہ 2 ہفتوں تک جاری رہے گی جبکہ اس کی تفصیلات تمام متعلقہ اداروں کو بھی فراہم کی جائے گی۔