کرکٹرز کی نیوزی لینڈ مساجد پر دہشتگرد حملے کی مذمت، واقعہ المناک قرار

15 مارچ 2019

ای میل

نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ میں ہونے والے حملے کے بعد دنیائے کرکٹ سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے اس واقعے کو المناک قرار دے دیا، متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی اور مارے جانے والوں کے لیے دعائیں کیں۔

خیال رہے کہ مذکورہ حملہ 15 مارچ کو کرائس چرچ کی ایک مسجد میں ہوا جس میں مسلح حملہ آور نے مسجد میں گھس کر فائرنگ کردی جس سے 49 نمازی شہید ہوگئے تھے۔

اس حملے سے کے بعد دنیائے کرکٹ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی جانب سے سخت ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔

مزید پڑھیں: ‘مساجد پر حملے سے 8 برس قبل المناک سانحہ کی تاریخ تازہ ہوگئی‘

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بوم بوم آفریدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرائس چرچ میں ہونے والا حملہ بہت دہشت ناک ہے،

ان کا کہنا تھا کہ میں نے نیوزی لینڈ کو دنیا میں سب سے محفوظ اور پر امن ملک پایا ہے، یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں۔

شاہد آفریدی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے بنگلہ دیشی کھلاڑی تمیم اقبال سے بات کی ہے جنہوں نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم بالکل محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں مساجد پر ہونے والے حملوں پر ایک نظر

اسٹار آل راؤنڈر نے متحد ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے سے نفرت بند کی جائے، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

انہوں نے کرائس چرچ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔

سابق کپتان اور سری لنکا کے لیجنڈ بلے باز کمار سنگا کارا نے بھی کرائس چرچ واقعے کی مذمت کی ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے کا علم ہوتے ہی بہت دکھ ہوا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سنگا کارا کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے میں اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے اس واقعے کو المناک قرار دیا واقعے میں اپنی جان گنوانے والوں کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی بھی کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی اظہار ہمدردی کیا۔

بھارت کے سابق کرکٹر محمد کیف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے میں مارے جانے والے 49 افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں۔

پاکستانی نژاد آسٹریلین کھلاڑی عثمان خواجہ نے کہا ہے کہ انہیں کرائس چرچ حملے کا بہت دکھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی تمام ہمدردیاں اور دعائیں واقعے میں مارے جانے والے افراد کے گھر والوں کے ساتھ ہیں۔

اسپیڈ اسٹار شعیب اختر نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس دہشت گرد حملے کو انتہائی المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہیں مارے جانے والے افراد کے ساتھ ہمدردی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بھی اسی طرح کی کرب سے گزشتہ 20 سالوں کے دوران گزرا ہے۔

پاکستانی آل راؤنڈر محمد حفیظ نے کہا ہے کہ انہیں اس دہشت گرد حملے کا سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی ہمدردیاں اور دعائیں مارے جانے والے افراد کے ساتھ ہین۔

محمد حفیظ کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا کوئی مذہب نہیں ہے، ہمیں اس پر قابو پانے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے وین پارنیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد حملہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں اور دعائیں مارے جانے والوں کے ساتھ ہیں۔

آسٹریلین ٹیسٹ کرکٹ فواد احمد نے کرائس چرچ کی مسجد میں مارے جانے والے افراد کو ’شہید‘ قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔