ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے 3 افراد کی لاشیں بلوچستان سے برآمد

اپ ڈیٹ 23 مارچ 2019

ای میل

پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے — فائل فوٹو
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے — فائل فوٹو

ڈیرہ اسمٰعیل خان سے تعلق رکھنے والے 3 افراد کی بلوچستان کے علاقے راکھنی سے لاشیں برآمد ہوئیں۔

بلوچستان کے ضلع بارکھان کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس حاجی محمد زَمری نے کہا کہ تینوں افراد کو سروں پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ تینوں کی شناخت ان کے شناختی کارڈز کے ذریعے علم الدین، نظام الدین اور رضا خان کے ناموں سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ علم الدین اور نظام الدین دونوں بھائی تھے۔

محمد زَمری کا کہنا تھا کہ تینوں لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: تربت سے 15 افراد کی لاشیں برآمد

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تشدد زدہ لاشیں ملنے کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔

صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے تاہم یہاں ترقیاتی کام دیگر صوبوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

صوبہ بلوچستان گذشتہ کچھ دہائیوں سے تشدد اور کشیدگی کے لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: تربت سے مزید 5 لاشیں بر آمد

عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی جانب یہاں سیکیورٹی فورسز اور قومی اثاثوں پر حملے ایک معمول ہیں جبکہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے نتیجے میں سیکٹروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حکومتی پالیسی کے بعد اب تک متعدد علیحدگی پسند کمانڈر ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوئے جن کی واپسی کو خوش آئندہ قرار دیا گیا۔