نیب کا حمزہ شہباز کے گھر کا کئی گھنٹے تک محاصرہ، گرفتاری کے بغیر واپس روانہ

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2019

ای میل

قومی احتساب بیورو گزشتہ روز  حمزہ شہبازکو گرفتار نہیں کرسکی تھی—فوٹو: فیس بک
قومی احتساب بیورو گزشتہ روز حمزہ شہبازکو گرفتار نہیں کرسکی تھی—فوٹو: فیس بک

قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر لاہور میں قائم شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچی اور تقریباً 4 گھنٹے تک محاصرہ کیا لیکن وہ انہیں گرفتار کیے بغیر واپس روانہ ہوگئی۔

ڈان نیوز ٹی وی کے مطابق نیب کی ٹیم لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی رہائش گاہ 96 ایچ پر پہنچی، جہاں انہیں گھر کے اندر داخل ہونے پر ایک مرتبہ پھر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کی بڑی تعداد نے شہباز شریف کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا—اسکرین شاٹ
پولیس کی بڑی تعداد نے شہباز شریف کی رہائش گاہ کا محاصرہ کیا—اسکرین شاٹ

احتساب کے ادارے کی دوسری کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی نیب کی ٹیم کے ہمراہ موجود رہی اور انہوں نے شہباز شریف کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا جبکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں گھر میں موجود تھے۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جبکہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، آج محسوس ہوا ہم دہشتگرد ہیں‘

نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر آئے ہیں اور گزشتہ روز کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے پولیس کی نفری بھی ساتھ موجود تھی۔

پولیس اور لیگی کارکنان میں تصادم

نیب ٹیم کے چھاپے کی اطلاع ملتے ہی مسلم لیگ (ن) کے کارکنان بھی رہائش گاہ پہنچنا شروع ہوگئے اور نیب اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی جبکہ کچھ کارکنان نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس اور کارکنان میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

کارکنان نے شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچنے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ
کارکنان نے شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچنے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ

صورت حال کو دیکھتے ہوئے اور کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی مزید نفری کے ساتھ ساتھ رینجرز کو بھی طلب کیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کی کارروائی کے دوران لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچ گئی تھی اور نیب کی ٹیم کی گاڑیوں کو روکنے کی بھی کوشش کی گئی تھی جبکہ کچھ کارکنان نے احتجاجاً دھرنا بھی دیا تھا۔

حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں، نیب ٹیم

تاہم شہباز شریف کی رہائش گاہ آنے والی نیب کی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری اصغر نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری حمزہ شہباز سے درخواست ہے کہ وہ دیواروں کے پیچھے نہ چھپیں اور گھر سے باہر آئیں تاکہ قانونی طریقے سے ان کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہم منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے آئے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے'۔

ڈپٹی ڈائریکٹر نیب چوہدری اصغر نے کہا کہ ہم نے حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، ساری رات یہاں ہیں، گرفتار کرکے ہی جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف نیا ریفرنس دائر کردیا

نیب ٹیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری اصغر کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے بیسمنٹ میں چھپ کر بیٹھ گئے ہیں، لیگی رہنما کے گھر کے دروازے نہیں کھولے گئے تو سیڑھی لگاکر اندر جائیں گے۔

قانون کی نظر میں تمام ملزمان برابر ہیں، نیب

نیب لاہور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب کا اقدام قانونی ہے اس کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے، قانون کی نظر میں تمام ملزمان برابر ہیں۔

نیب لاہور کے مطابق حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ قانون کے مطابق اور ہر لحاظ سے قابل عمل ہیں، مسلم لیگ (ن) کے کارکنان اور گارڈز اپنے سیاسی رہنماؤں کے آشیرباد پر ماحول کو خراب کر رہے ہیں اور کارسرکار میں مداخلت کے مرتکب ہورہے ہیں۔

بیان میں حمزہ شہباز کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا کہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور قومی ادارے سے تعاون کرتے ہوئے گرفتاری دے دیں۔

احتساب عدالت کا حکم

عدالت کا جاری کردہ حکم—فوٹو: علی وقار
عدالت کا جاری کردہ حکم—فوٹو: علی وقار

حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب کی جانب سے پراسیکیورٹر وارث علی جنجوعہ نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ انہیں پولیس کے ہمراہ حمزہ شہباز کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

تاہم احتساب عدالت کی جانب سے کہا کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کے چیپٹر 5 کی روشنی میں ملزم کی گرفتاری کے طریقہ کار کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق تمام طرح کی کارروائی پر ہوتا ہے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے میں پہلے سے جاری وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے اس وقت تک کوئی خصوصی ہدایات کی ضرورت نہیں، جب تک کوئی متعلقہ انتظامیہ اسے معطل نہ کرے۔

واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

نیب کے وارنٹ گرفتاری غیر قانونی ہے، لیگی وکیل

مسلم لیگ (ن) کے قانونی مشیر کے وکیل عطا تارڑ نے گرفتاری کے لیے آنے والی نیب کی ٹیم کے پاس موجود وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر اعلیٰ حکام کے دستخط موجود نہیں۔

نیب کی ٹیم کے چھاپے پر عطا تارڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے نیب کی ٹیم کو لاہور ہائی کورٹ کا حکم نامہ دکھایا ہے اور انہیں کہا ہے کہ ان کے وارنٹ غیر قانونی ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم نامے کی موجودگی میں کسی بھی طرح کے وارنٹ جاری نہیں کیے جاسکتے اور نہ ہی گرفتاری عمل میں آسکتی ہے۔

نیب اپنی کارروائی خود کررہا ہے، ترجمان پنجاب حکومت

پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل کا کہنا تھا کہ نیب حمزہ شہباز کی گرفتاری سے متعلق کارروائی خود کر رہا ہے، اس میں حکومتی عمل دخل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: نیب گھر پر چھاپے کے باوجود حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے میں ناکام

ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل نے مزید کہا کہ حکومتی بینچز پر بیٹھے اراکین اسمبلی کو بھی نیب کی جانب سے حراست میں لیا گیا تاہم ہم نے تو یہ نہیں کہا کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) حکومت میں ہوتی تو ان کے اراکین کہتے کہ انہیں ’مخصوص قوتیں‘ ہمارے خلاف کام کر رہی ہیں۔

نیب کا چھاپہ حملے کے مترادف ہے، مسلم لیگ (ن)

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وارنٹ گرفتاری سے متعلق نیب کا موقف بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی نیب کو ہدایات ہیں کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری سے قبل انہیں 10 روز پہلے آگاہ کرنا ہے اور نیب اس حکم کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ گیا ہے لیکن یہ معاملہ زیر التوا ہے۔

رانا ثنااللہ نے نیب کے چھاپے کو حملے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب کا عمل غیر قانونی ہے اور یہ وزیر اعظم کے حکم پر ہورہا ہے اور تمام صورتحال کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔

اس معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز باقاعدگی سے نیب کے سامنے پیش ہورہے ہیں لیکن نیب کی ٹیم ایک مرتبہ پھر حمزہ شہباز کے گھر پہنچی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر ریاستی دہشت گردی کررہے ہیں اور اس سے قبل کنٹینر پر چڑھ کر دہشت گردی کررہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی نااہلیاں اور ناکامیاں چھپانے کے لیے یہ ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔

نیب کا چھاپہ عدالت میں چیلنج

ادھر حمزہ شہباز کی قانونی ٹیم نے گزشتہ روز نیب کے چھاپے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نیب کے وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس چھاپےے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا لیکن ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کیلئے شہباز شریف نیب میں طلب

نیب کی جانب سے گزشتہ روز کی کارروائی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ نیب لاہور کی ٹیم آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے گئی تھی، تاہم حمزہ شہباز کے گارڈز کی جانب سے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا اور ٹیم کو زدوکوب کیا گیا۔

نیب نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم کے اہلکاروں کے کپڑے پھاڑنے کے علاوہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں تھیں جبکہ ٹیم قانون کے مطابق ملزم حمزہ شہباز کی گرفتاری کے وارنٹ لے کر گئی تھی۔

اپنے بیان میں نیب نے واضح کیا تھا کہ ملزم حمزہ شہباز کی ٹھوس شواہد کی بنیاد اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

نیب ٹیم پر گارڈز کے تشدد کے خلاف مقدمہ درج

علاوہ ازیں نیب کی ٹیم کے پہلے چھاپے کے دوران حمزہ شہباز کے گارڈز کے تشدد کے خلاف ماڈل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کردیا گیا۔

نیب کے ڈرائیور ممتاز حسین کے بیان پر ماڈل ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں مدعی نے موقف اپنایا کہ حمزہ شہباز کے گارڈز نے انہیں تشدد کا نشاہ بنایا، ملزمان نے میرے کپڑے پھاڑے اور کار سرکار میں مداخلت کی۔

مقدمہ کارسرکار میں مداخلت، دھمکیاں دینے سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا جبکہ یہ بھی موقف اپنایا گیا کہ ملزمان نے سرکاری گاڑی کا شیشہ توڑا اور نیب ٹیم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

آمدن سے زائد اثاثے، مبینہ منی لانڈرنگ کیس

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کئی مرتبہ نیب کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں۔

اسی تحقیقات کی روشنی میں نیب حکام کی درخواست پر ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا جبکہ انہیں ایک مرتبہ بیرون ملک جانے سے بھی روکا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔

ساتھ ہی گزشتہ روز یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ نیب کی ٹیم حمزہ شہباز کو صرف آمدنی سے زائد اثاثے کے کیس میں نہیں بلکہ مبینہ منی لانڈرنگ میں ثبوت کی بنیاد پر گرفتار کرنے پہنچی تھی۔

اس سارے معاملے پر نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ شہباز شریف کے اہل خانہ کی جانب سے اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے ثبوت ملنے کا انکشاف ہوا، جس کی بنیاد پر حمزہ اور سلیمان شہباز کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو منظم مبینہ منی لانڈرنگ کی چونکا دینے والی اسکیم کا پتہ چلا، جس کے ذریعے شہباز شریف کے اہل خانہ کے اراکین نے حالیہ برسوں میں غیرقانونی دولت بنائی اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو کرپشن اور منظم مبینہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 85 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کا پتہ چلا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملنے والے ثبوت ناقابل تردید ہیں اور شریف خاندان کے مختلف ارکان منظم مبینہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی دولت بنانے میں ملوث ہیں۔

حمزہ شہباز کی جانب سے 2003 میں ظاہر کیے گئے اثاثے 2 کروڑ روپے سے کم تھے تاہم ان کے والد کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کی ذاتی دولت مبینہ طور پر 41 کروڑ (تقریباً 2 ہزار فیصد) سے زائد بڑھ گئی تھی۔

اسی سلسلے میں نیب نے حمزہ شہباز سے متعلق نیب کی جانب سے کچھ قریبی ساتھیوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے دوران تفتیش کرپش اور مبینہ منی لانڈرنگ کا پورا طریقہ بتایا تھا۔

ساتھ ہی لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار 2 افراد قاسم قیوم اور فضل داد کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے نیب کے اختیارات کو بڑھاتے ہوئے انہیں پیشگی اطلاع دیے بغیر گرفتاری کی اجازت دے دی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا تھا کہ نیب کسی بھی ملزم کو پیشگی اطلاع دیے بغیر ہی گرفتار کر سکتا ہے، اگر نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہوں تو اسے گرفتاری کا مکمل اختیار ہے۔

تاہم اعلیٰ عدالت نے ساتھ یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ عدالت کو امید ہے کہ نیب اپنے ان اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرے گا۔