آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کیلئے شہباز شریف نیب میں طلب

اپ ڈیٹ 06 اپريل 2019

ای میل

شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا ہیں — فوٹو بشکریہ فیس بک
شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا ہیں — فوٹو بشکریہ فیس بک

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثوں کے بارے میں ان کے اور ان کے بیٹوں کے خلاف جاری تفتیش میں 9 اپریل کو طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ظاہر کیے گئے ذرائع آمدن سے مطابقت نہ رکھنے والے اثاثوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف بھیجے گئے نوٹس میں نیب نے شہاز شریف سے ان کو ملنے والی والد کی وراثت کے حوالے سے بھی تفصیلات مانگی ہیں۔

اس کے علاوہ نیب نے ان سے ان کی بیویوں کے اثاثوں کی تفصیلات، ان کے سال، خرید نے یا تعمیر کرنے کی لاگت اور اس رقم کے ذرائع، ان کی اہلیہ نصرت سے 10-2009 میں انہیں موصول ہونے والے 11 کروڑ 22 لاکھ سے زائد کے ترسیلاتِ زر کے ذرائع، ان تمام غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات جو شہباز شریف کی ملکیت ہیں یا انہوں نے فروخت کردیے، ان کے سال، خریداری کی لاگت، متعلقہ دستاویزات اور اس رقم کے ذرائع بھی پوچھے ہیں۔

اس کے علاوہ نیب کے نوٹس میں شہباز شریف کے تمام غیر ملکی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات، بینک اسٹیٹمنٹ، اہلِ خانہ کو دیے گئے تمام تحائف کی بھی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب گھر پر چھاپے کے باوجود حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے میں ناکام

مذکورہ نوٹس کے تحت سابق وزیراعلیٰ پنجاب سے وہسپرنگ پائن ریزورٹ، ماؤزا میخنیل، تحصیل حاصل پور میں موجود ان کے گھر یا پلاٹ، جو انہوں نے اپنی بیویوں کو بطورِ تحفہ دیے، کے بارے میں بھی پوچھا گیا ہے۔

اور مذکورہ جائیداد کی بھی متعلقہ دستاویزات اور الیکشن کمیشن میں ظاہر کیے گئے اثاثوں میں بطور تحفہ ملنے والی گاڑیوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔

نوٹس میں نیب نے انہیں 9 اپریل کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے اور تمام تر مطلوبہ ریکارڈ اپنے ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی۔

واضح رہے کہ شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہا ہیں۔

اس سے قبل نیب نے شہباز شریف کے اہل خانہ کی جانب سے اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے ثبوت ملنے کا انکشاف کیا تھا، جس کی بنیاد پر ان کے دونوں بیٹوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: ‘چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، آج محسوس ہوا ہم دہشتگرد ہیں‘

ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو منظم مبینہ منی لانڈرنگ کی چونکا دینے والی اسکیم کا پتہ چلا ہے جس کے ذریعے شہباز شریف کے اہل خانہ کے اراکین نے حالیہ برسوں میں غیرقانونی دولت بنائی اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔

ذرائع نے مزید بتایا تھا کہ نیب کو کرپشن اور منظم مبینہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 85 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کا پتہ چلا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملنے والے ثبوت ناقابل تردید ہیں اور شریف خاندان کے مختلف ارکان منظم مبینہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی دولت بنانے میں ملوث ہیں۔

نیب کے پاس موجود ثبوتوں کی بنیاد پر یہ بات بھی سامنے آئی کہ اہل خانہ کے دیگر قریبی افراد اور ساتھی مبینہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں اور انہیں بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف نیا ریفرنس دائر کردیا

نیب میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کیس اور آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ/جعلی اکاؤنٹس کیس میں کافی مماثلت ہے۔

قبل ازیں گزشتہ روز نیب ٹیم کی جانب سے قانونی طور پر وارنٹ گرفتاری کے تحت حمزہ شہباز کی گرفتاری کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔