’اصلاحات نہ کیں تو 2024 تک پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار مزید کم ہو جائے گی‘

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2019

ای میل

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹیبن لگارڈے واشنگٹن میں جاری ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف گلوبل کانفرنس میں اظہار خیال کر رہی ہیں — تصویر بشکریہ ٹوئٹر
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹیبن لگارڈے واشنگٹن میں جاری ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف گلوبل کانفرنس میں اظہار خیال کر رہی ہیں — تصویر بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر انٹرنیشنل مانیٹر فنڈ(آئی ایم ایف) کے 3سالہ بیل آؤٹ پیکج پر حتمی گفتگو کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں جہاں عالمی مالیاتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پروگرام منظور نہ کیا گیا تو پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح موجودہ اور آئندہ مالی سال کم ہو کر بالترتیب 2.9 اور 2.8فیصد ہو جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسد عمر کی سربراہی میں جانے والے وفد میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ، سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا، ڈویژن سیکریٹری معاشی امور نور احمد اور ان اداروں کے سینئر آفیشلز موجود ہیں جو 9 سے 14اپریل تک ہونے والے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسم بہار کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اسی کے دوران ملکی معیشت میں استحکام کے لیے بیل آؤٹ پیکج کو حتمی شکل دیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی شرح نمو 2019 میں 3.4 فیصد تک پہنچ جائے گی، عالمی بینک

واشنگٹن روانگی سے قبل وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے مجوزہ پروگرام کو اس اجلاس کے دوران ہی حتمی شکل دی جائے گی جس کے بعد رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں آئی ایم ایف کا اسٹاف مشن پاکستان کا دورہ کر کے معاہدے پر دستخط کرے گا۔

وزارت خزانہ کے ترجمان اس بارے میں گفتگو کے دستیاب نہ ہو سکے لیکن وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور اس کی شرائط پر گفتگو کے لیے اسد عمر واشنگٹن میں موجود ہیں لیکن آئندہ چند دنوں میں مذاکرات کا ایک اور دور ہو گا جس میں معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی جبکہ وزیر خزانہ کی وطن واپسی کے بعد ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو باقاعدہ لانچ کیا جائے گا۔

اپنے عالمی معاشی منظر نامے میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر معاشی اصلاحات کرنے پر زور دیتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ مڈ ٹرم میں پاکستان کی شرح نمو 2024 تک 2.5فیصد سے نہیں بڑھے گی لیکن اگلے سال کے لیے آئی ایم ایف نے عالمی بینک کی طرح 2.75 فیصد کی شرح نمو کی پیشگوئی کی ہے، البتہ آئی ایم ایف کی جانب سے رواں سال 2.9فیصد شرح نمو کے مقابلے میں عالمی بینک نے 3.6فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ان منفی پیشگوئیوں کی وجہ توانائی کی قیمتوں، میکرو اکنامک چیلنجز اور آہستہ ہوتی عالمی معیشت کے اثرات کو قرار دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس 7.6فیصد تک رہے گا جبکہ اگلے مسالی سال کے دوران یہ کم ہو کر 7فیصد اور 2024 تک مستحکم ہو کر 5فیصد تک پہنچ جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں سال کے دوران جی ڈی پی کا تقریباً 5.2فیصد رہے گا جو اگلے سال کم ہو کر 4.3 فیصد تک آ جائے گا لیکن پھر 2024 تک بڑھ کر 5.4فیصد تک پہنچ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا آئی ایم ایف پیکج رکوانے کیلئے امریکا میں بھارتی لابی سرگرم

بیروزگاری کی شرح موجودہ سال کے دوران 6.1فیصد پر برقرار رہے گی البتہ یہ اگلے سال بڑھ کر 6.2 ہو جائے گی اور 2024 تک اسی شرح پر برقرار رہے گی۔

حکومت آئی ایم ایف کو اپنے میکرو اکنامک اعدادوشمار کے ساتھ ساتھ استحکام اور شرح نمو کے حوالے سے حکمت عملی سے آگاہ کر چکا ہے جو اس پروگرام میں پاکستان کے معاشی منظرنامے کی بنیاد تصور کیے جا رہے ہیں۔