معاشرہ من حیث القوم بدعنوان ہوچکا ہے، شیخ رشید

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2019

ای میل

وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق اب لوگوں کی شناخت شرافت نہیں دولت بن چکی ہے — تصویر: ڈان نیوز ٹی وی
وزیر ریلوے شیخ رشید کے مطابق اب لوگوں کی شناخت شرافت نہیں دولت بن چکی ہے — تصویر: ڈان نیوز ٹی وی

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کراچی میں ایوانِ صنعت و تجارت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ من حیث القوم (اجتماعی طور پر) بدعنوان ہوچکا ہے ایک چور کو ہٹاؤ تو پیچھے سے ڈاکو برآمد ہوجاتا ہے کیوں اب لوگوں کی شناخت شرافت نہیں دولت بن چکی ہے۔

وزیر ریلوے نے بتایا کہ فوڈ کوچز اس لیے ختم کی گئیں کیوں کہ وہ کھانا کم اسمگلنگ کا مال زیادہ لاتی تھیں، ہم نے 24 ٹرینیں چلائی ہیں جس میں 5 طرح کے مسافر سوار ہوتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پشاور سے آنے والی رحمٰن بابا ٹرین کی گنجائش 160 افراد کی ہے۔

یہ بھی پڑیھں: بدعنوانی کے خلاف سخت قانون متعارف کروانے کی تیاریاں مکمل

انہوں نے کہا کہ جناح ٹرین کا آغاز کردیا گیا ہے اور جلد سرسید اور گرین لائن ٹرین بھی شروع کرنے والے ہیں جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے 4 ماہ کے عرصے میں 4 ارب روپے زیادہ حاصل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کے دور میں 8 ٹرینوں سے 14 فریٹ ٹرینیں کردی ہیں جس کی تعداد میں مزید اضافہ کر کے 20 تک پہنچایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خزانہ غریب آدمی نہیں لوٹتا، کسی وزارت میں اس وقت تک کرپشن نہیں ہوسکتی جب تک وزیر یا سیکریٹری ایماندار ہوں، دونوں میں سے کسی ایک کا بے ایمان ہونا ضروری ہے اور سیاستدانوں کو کاروباری افراد بدعنوانی کے راستے دکھاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ مجھے پسند نہیں کرتی لیکن میں پہلےدن سے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تاہم آئی ایم کی شرائط سخت ہیں۔

مزید پڑھیں: بدعنوانی کے خاتمے کیلئے اولین ترجیح خود احتسابی ہے، چیئرمین نیب

وزیر ریلوے نے بتایا کہ پشاور سے کراچی تک نیا ٹریک بنایا جائے گا جس میں 5 سال لگیں گے، پچھلے 10 سالوں کے دوران خزانے کو بہت بے دردی سے لوٹا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اگر نریندر مودی کو شکست ہوئی تو پاکستان کی سلامتی کے لیے سوال اٹھ جائیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس روایتی ہتھیار کی گنجائش نہیں ہے اور اگر مودی نے اس ملک کی سرحدوں کی جانب دیکھا وہی ’پھول جھڑیاں‘ استعمال کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوسکتا جو ہمارے پاس ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملک کا مسئلہ یہ ہے کہ جس کا کام اسی کو سانجھے نہیں ہوتا، اس بنا پر ہم ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرسکتے۔

کراچی سرکلر ریلوے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سلسلے میں کمرشل تجاوزات ختم کردی ہیں جس دن سندھ حکومت نے ڈیزائن اور فزیبلیٹی منظور کی، پاکستان ریلوے اسی دن ساری تجاوزات ختم کر کے اسے حوالے کردے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بدعنوانی کے بڑے مقدمات ترجیحی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچائے جائیں گے

انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے سی پیک میں شامل ہے اگر آج یہ منصوبہ ہماری موجودگی میں نہیں بن سکا تو پھر کبھی بھی نہیں بن سکے گا، اس سلسلے میں چینی سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیا یہ انصاف ہے کہ آپ ملک کو لوٹ کر معیشت تباہ و برباد کردیں اور بچے اور گھر آپ کے باہر ہوں اور علاج کروانے کے لیے باہر جائیں۔