میں نے سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے توبہ کیوں کی؟

15 اپريل 2019

ای میل

جس طرح پاکستان میں سرکاری شعبے کے زیادہ تر اداروں میں لوگوں کو ریڈ ٹیپ یا کام میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹھیک ایسی ہی رکاوٹوں اور مسائل کا سامنا مجھے ملک کی باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک پنجاب یونیورسٹی میں ہوا۔

میں نے ایک دوسری نامور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، (یو ای ٹی) لاہور سے گریجویشن کیا ہے اور حال ہی میں مجھے پنجاب یونیورسٹی میں ایک پرائیوٹ امتحان کے لیے انرولمنٹ کروانے کی کوشش کا ایک بڑا ہی مایوس کن تجربہ ہوا۔

زیادہ پرانی بات نہیں جب میں بیرون ملک تعلیم کے لیے کوششوں میں لگا ہوا تھا، ان دنوں میں نے انٹرنیٹ پر اپنے لیے کوئی مناسب پروگرام ڈھونڈنا شروع کردیا۔ کورس کی تلاش سے لے کر متعلقہ سوالات، درخواست اور فیس کی ادائیگی تک کے تمام مراحل، بہت ہی آسان اور سہل ثابت ہوتے گئے اور لیپ ٹاپ پر بیٹھے بیٹھے میں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہونے والی چند میں داخلہ حاصل کرسکتا تھا۔

ہماری لاڈلی پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ میرے ہولناک تجربے کی ابتدا اس کی ویب سائٹ پر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے ساتھ ہوئی۔ ٹیبلز پر مشتمل فرسودہ ایچ ٹی ایم ایل ویب سائٹ بہت ہی زیادہ بکھری ہوئی اور پیچیدہ تھی۔ ابتدائی طور پر تو مجھے لگا کہ اس وقت داخلوں کا کوئی پروگرام دستیاب ہی نہیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد جب میں دوبارہ ویب سائٹ پر گیا تو اس پر اچانک سے ایک پیج نمودار ہوا جس میں لکھا تھا کہ ایم اے/ ایم ایس سی کے داخلے جاری ہیں۔ ویب سائٹ کو مزید کھنگالا تو مجھے ڈاؤن لوڈ ایبل داخلہ فارم مل گیا جس سے پتہ چلا کہ مجھے اب ’رجسٹریشن نمبر‘ حاصل کرنا ہوگا۔

رجسٹریشن نمبر کے حصول کے لیے کھوج شروع کی تو پتہ چلا کہ اس کے لیے آن لائن درخواست کا نظام موجود ہے۔ یہ بات میرے لیے کافی خوشگوار حیرت کا باعث بنی، مگر یہ حیرت چند لمحوں بعد اس وقت ہوا ہوگئی جب میں نے یہ پڑھا کہ آن لائن فارم مکمل ہونے پر ایک چالان جنریٹ ہوجائے گا، جسے ہاتھ سے پُر کرکے بینک جاکر جمع کروانا ہوگا اور پھر جمع شدہ چالان کی تفصیلات کی آن لائن اندراج کروانی ہوں گی۔ اس کے بعد آپ فارم کا پرنٹ لے سکتے ہیں اور پھر اس پرنٹ شدہ فارم کو بذریعہ پوسٹ یا خود دفتر جاکر جمع کروانا ہوگا۔

تصدیق شدہ دستاویزات کی نقول، تصاویر کے علاوہ این او سی اور ڈگری ایکوئلینس سرٹیفکیٹ بھی فارم کے ساتھ شامل کرنے تھے۔ این او سی کے حصول کے لیے مجھے یو ای ٹی جانا پڑا۔ یو ای ٹی بھی ریڈ ٹیپ میں پنجاب یونیورسٹی سے کسی طور پر کم نہیں۔ وہاں این او سی کے حصول کے لیے فارم، فیس سمیت ایک پورے مرحلے سے گزرنا تھا جس کے لیے 2 سے 3 دن اور یونیورسٹی کے کم از کم 3 چکر درکار تھے۔ بالآخر مجھے این او سی مل ہی گیا جس میں محض یہ لکھا تھا کہ یو ای ٹی کو میرے کسی دوسری یونیورسٹی میں داخلہ لینے پر کوئی اعتراض نہیں۔

اب باری تھی ایکوئلینس سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی۔ پاکستان کے اعلیٰ سرکاری انجینئرنگ اداروں میں سے ایک ادارے سے ایچ ای سی سے تسلیم شدہ ڈگری حاصل کرنے والے ایک ’بافخر‘ انجینئر کی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے میں نے سوچا تھا کہ مجھے ایکوئلینسی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تاہم جب میں نے ایکوئلینس سرٹیفکٹ کے بغیر فارم جمع کرنے کی کوشش کی، تو کلرک نے بے تاثر لہجے اور کسی سپر ماڈل کے نخریلے انداز میں کہا کہ میں نے چاہے یو ای ٹی سے پڑھا ہو یا آکسفورڈ سے، مجھے ہر صورت سرٹیفکٹ کو فارم کے ساتھ جمع کروانا ہوگا۔ میں نے بڑے ہی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا طریقہ کار پوچھا تو انہوں نے مجھے ساتھ ہی موجود بلاک میں کمرہ نمبر 25 میں بھیج دیا۔

کمرہ نمبر 25 میں کلرک ڈیسک پر سر رکھے سو رہے تھے۔ اس سلیپنگ بیوٹی کو اٹھانے کے لیے میں نے میز کھٹکھٹائی، نیند سے جاگنے کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے ایک فارم حاصل کرنا ہوگا اور 2 ہزار 360 روپے کی فیس جمع کروانی ہوگی، اور اگلے دن سرٹیفیکٹ تیار ہوجائے گا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ فارم ’نیو بلڈنگ‘ سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ بلڈنگ کہاں ہے تو پتہ چلا یہ وہی عمارت تھی جہاں سے مجھے کمرہ نمبر 25 میں بھیجا گیا تھا۔

میں دوبارہ اسی عمارت میں پہنچا جہاں مجھے 4 صفحوں پر مشتمل ایک طویل فارم تھما دیا گیا جس میں ہر ایک تفصیلات کا اندراج کرنا تھا اور فارم کے ساتھ تصدیق شدہ دستاویز کی نقول، تصویریں اور اوریجنل ڈگری لگانی تھی۔ محض ایک پرائیوٹ امتحان کے لیے انرولمنٹ کی خاطر کئی دنوں کی خواری سہنے کے بعد اب مزید خود کو پریشان کرنے کی مجھ میں ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ میں نے فارم اٹھایا اور یونیورسٹی سے نکل آیا۔

مذکورہ پورا مرحلہ محض خود کو رجسٹر کروانے کے لیے درکار تھا۔ اس کے بعد ’داخلہ فارم‘ کی باری تھی جس میں علیحدہ سے فیس دینی تھی۔ دنیا میں پائے جانے والے ہر ایک دستاویز کی تصدیق شدہ نقل کے ساتھ ساتھ تصدیق شدہ تصاویر بھی درکار تھیں اور پھر اس فارم کو بذریعہ پوسٹ یا خود جا کر جمع کروانا تھا۔

مسائل اور دشواریوں سے بھرپور جس تلخ تجربے سے مجھے گزرنا پڑا ہے، اس سے کئی سوال ابھرتے ہیں۔ ہم اپنی یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس جامع اور جدید کیوں نہیں بناسکتے؟ مکمل درخواست اور اس کے ساتھ دستاویز کو سافٹ کاپیز کی صورت میں آن لائن جمع کیوں نہیں کرواسکتے؟ آخر کیوں ایک سرکاری یونیورسٹی کو اس دوسری سرکاری یونیورسٹی کی ڈگری کی ایکوئلینسی درکار ہے جو پہلے سے ایچ ای سی سے تسلیم شدہ ہے؟ کیوں ایک یونیورسٹی کو این او سی مطلوب ہوتی ہے حالانکہ طالب علم کی کلیرئنس کے ثبوت کے طور پر ڈگری موجود ہوتی ہے؟ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ داخلہ لینے کا مرحلہ اس قدر انتہائی دشوار کیوں ہے؟

یونیورسٹی کے انتظامی مراحل کو خودکار نظام میں بدلنے یا کمپیوٹرائزڈ بنانے کے لیے کسی نئی پروگرامنگ تکنیک یا پھر کسی ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں جو صرف ایلون مسک (Elon Musk) فراہم کرسکتا ہو۔

ہم جن یونیورسٹیوں کو اپنے لیے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں وہ برسوں پہلے ہی اس راہ پر گامزن ہوچکی ہیں اور ان کے نظام میں گزرتے وقت کے ساتھ بہتری آتی جا رہی ہے۔ خودکار نظام کی مدد سے داخلہ و دیگر معاملات کے مراحل آسان ہوجاتے ہیں، کاغذ کا کم سے کم استعمال ہوتا ہے، خرچے بھی زیادہ نہیں ہوتے اور طلبہ خوش رہتے ہیں۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بھی اسی راہ پر چلنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ مضمون 15 اپریل 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔