سپریم کورٹ: شہباز شریف، فواد حسن کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے منظور

اپ ڈیٹ 18 اپريل 2019

ای میل

عدالت نے شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو 2مئی کے لیے نوٹس جاری کردیے— فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت نے شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو 2مئی کے لیے نوٹس جاری کردیے— فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی سے متعلق دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3ر کنی بینچ نے شہبازشریف اورفواد حسن فواد کی ضمانت منسوخی سے متعلق نیب کی اپیلوں پر سماعت کی۔

مزید پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

اس دوران نیب کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ انہوں نے میڈیکل چیک اپ کے لیے کیس ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، بیرون ملک سے معالج نے آکر چیک اپ کرنا تھا لیکن غلط خبروں کی وجہ سے وہ آج اپنا علاج چھوڑ کر عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔

جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ کو بہت جلدی ہے، کہیں پشاور تو نہیں جانا؟ اس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ پشاور نہیں بلکہ ڈاکٹر کے پاس جانے کی جلدی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے حاضر بھی ہوں اور کیس کے لیے تیار بھی جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہم ابھی کیس سن لیتے ہیں۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کی، ضمانت کی درخواست پر پورا فیصلہ دے دیا ہے جبکہ ضمانت دیتے وقت شہباز شریف کو سنگین حالات کا سامنا نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 'بینچ تبدیل کیسے کر دیں اب ایسا نہیں ہوتا'

وکیل نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ضمانت سے متعلق طے کردہ اصولوں کے منافی ہے، اس کیس میں مقدمے کے تمام میرٹ زیر بحث آچکے ہیں اور ٹرائل کورٹ کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ہے، ہائی کورٹ نے پیرا 9 سے 13 تک میں کیس کے میرٹس پر فیصلہ دیا ہے۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ اس کیس میں شہباز شریف پر الزام کیا ہے؟ ہائی کورٹ نے ضمانت کے کیس میں الزامات ہی مسترد کر دیے اور قرار دیا کہ تمام ٹھیکے میرٹ پر دیے گئے۔

جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ عدالتی فیصلے سے ٹرائل بری طرح متاثر ہوگا، ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا، شہباز شریف آشیانہ سکینڈل کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور آشیانہ کا ٹھیکہ بدنیتی کی بنیاد پر منسوخ کروایا گیا۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے لینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی کے سربراہ کو گھر بلا کر ہدایات دیں، شہباز شریف کی ہدایات پر 9 فیصلے ہوئے، 8 فیصلوں نے احد چیمہ کے ہاتھ مضبوط کیے۔

نعیم بخاری نے کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سستے گھروں کا منصوبہ تھا، 3 ہزار کینال اراضی میں سے 2 ہزار کینال اراضی پیراگون کو دے دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آشیانہ فراڈ کا نقشہ نویس شہباز شریف ہیں، انہوں نے احد چیمہ کے ساتھ مل کر غیر قانونی طریقے سے منصوبہ ایوارڈ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیراگون کے ندیم ضیا اور کامران کیانی مفرور ہیں، کامران کیانی نے فواد حسن فواد کے بھائی کو ساڑھے 5کروڑ روپے دیے۔

نعیم بخاری نے دلائل میں مزید کہا کہ شہباز شریف نے پہلی نیلامی کو ختم کیا اور پھر دوسری نیلامی کا عمل بھی رکوا دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ آپ شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو نوٹس بھیج دیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ آپ سب کو سن لیں اور اس کے بعد فیصلہ کردیں۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پہلے ہم آپ کو تفصیل سے سن لیتے ہیں، اس کے جواب میں نعیم بخاری نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کنٹریکٹ ایوارڈ ہونے کے بعد مداخلت کر کے اس کنٹریکٹ کو منسوخ کروایا اور کنٹریکٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے کنٹریکٹر کو 60 لاکھ روپے منسوخی کا جرمانہ ادا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے کنٹریکٹ میں پیراگون کو 4 ارب روپے کم قیمت پر 2 ہزار کینال زمین دی گئی، منصوبے کو حکومتی فنانس سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں تبدیل کردیا گیا اور یہ کرنے کا بنیادی مقصد پیراگون کو فائدہ دینا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس: شہباز شریف کے خلاف تحقیقات مکمل، ریفرنس کی تیاری

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے 2 ججوں نے ان حقائق کو نہیں دیکھا، آشیانہ میں 6 ہزار سے زائد متاثرین منصوبے کی تکمیل کا انتظار کررہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آشیانہ ہائوسنگ اسکیم پر عمل پی ایل ڈی کمپنی نے کرانا تھا، وزیر اعلیٰ کمپنی کے معاملات میں مداخلت کیوں کرتے رہے؟۔

نیب کے وکیل نے کہا کہ فواد حسن فواد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی کیس ہے جنہوں نے راولپنڈی میں عالیشان پلازہ تعمیر کیا، احد چیمہ جیل میں ہو تو شہباز شریف اور فواد حسن فواد باہر کیسے رہ سکتے ہیں؟

نعیم بخاری نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے ججز نے ضمانت دیتے ہوئے اپنا عدالتی ذہن استعمال نہیں کیا اور ہائی کورٹ نے ضمانت کا نتیجہ جلد بازی میں اخذ کیا۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت دینے کے اصولوں پر عمل نہیں کیا۔

بعد ازاں دلائل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخی کی نیب کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو نوٹس جاری کر دیے اور سماعت 2 مئی تک ملتوی کردی۔