ہراساں کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر پریانکا نے کانگریس چھوڑ دی

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

پریانکا چترویدی کو اترپردیش میں پریس کانفرنس کے دوران کارکنان نے ہراساں کیا تھا—فائل فوٹو: پریس ٹرسٹ آف انڈیا
پریانکا چترویدی کو اترپردیش میں پریس کانفرنس کے دوران کارکنان نے ہراساں کیا تھا—فائل فوٹو: پریس ٹرسٹ آف انڈیا

بھارت کی سیکیولر تصور کی جانے والی سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کی ترجمان پریانکا چترویدی نے ہراساں کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پرپارٹی چھوڑ دی۔

پریانکا چترویدی چند سال سے کانگریس کے ساتھ منسلک تھیں اور وہ پارٹی کے مؤقف کو میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر انتہائی احسن انداز سے پیش کرتی تھیں۔

حالیہ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران بھی پریانکا چترویدی متحرک دکھائی دیں اور انہوں نے بھارت کی کئی ریاستوں میں جاکر کانگریس کی تشہیر کی۔

تاہم گزشتہ چند دن سے پریانکا چترویدی پارٹی کی اعلیٰ انتطامیہ سے ناراض دکھائی دے رہی تھیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چند دن قبل پریانکا چترویدی ریاست اترپردیش میں انتخابی مہم کے سلسلےمیں پہنچی تھیں، جہاں مبینہ طور پر پارٹی کے چند کارکنان نے ان بدتمیزی کی۔

پریانکا چترویدی احسن انداز میں کانگریس کا مؤقف پیش کرتی رہیں—فائل فوٹو: ساؤتھ انڈین پوسٹ
پریانکا چترویدی احسن انداز میں کانگریس کا مؤقف پیش کرتی رہیں—فائل فوٹو: ساؤتھ انڈین پوسٹ

رپورٹس کے مطابق ایک کارکن نے پریانکا چترویدی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، جس کی شکایت انہوں نے پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں سے کی تھی۔

پریانکا چترویدی کی شکایت پر راہول گاندھی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے کارکنان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی رکنیت معطل بھی کی تھی، تاہم بعد ازاں انہیں دوبارہ جماعت میں شامل کرلیا گیا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ہراساں کرنے والے افراد کو پارٹی میں دوبارہ شامل کرنے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کیے جانے کے بعد پریانکا چترویدی نے کانگریس کو چھوڑ دیا۔

رپورٹ کے مطابق پریانکا چترویدی نے کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو گزشتہ شب استعفیٰ بھی بھجوادیا، جس میں انہوں نے پارٹی سے نامناسب رویہ اختیار کرنے والے افراد کے خلاف منظم کارروائی نہ کرنے کی شکایت بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: کانگریس کا انتخابی منشور جاری، کشمیر کیلئے مثبت اقدامات کا عندیہ

پریانکا چترویدی نے کانگریس صدر کو استعفیٰ بھجوانے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر اپنی بائیو گرافی سے ’ترجمان کانگریس‘ کا جملہ ہٹادیا تھا۔

پریانکا صحافت سے بھی منسلک رہی ہیں—فائل فوٹو: دی ہندو
پریانکا صحافت سے بھی منسلک رہی ہیں—فائل فوٹو: دی ہندو

دوسری جانب ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا نے دعویٰ کیا ہے کہ پریانکا چترویدی جلد ہی ان کی جماعت میں شامل ہوں گی۔

شیو سینا کے رہنما سنجے روت کا کہنا تھا کہ پریانکا چترویدی جلد ہی ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کریں گی۔

پریانکا چترویدی نے تاحال کسی جماعت میں شمولیت کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا، خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ دوسری جماعت میں شمولیت کرنے کے ساتھ ہی لوک سبھا کے انتخابات میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کانگریس کو سہارا دینے کے لیے پریانکا گاندھی بھی سیاست میں آ گئیں

پریانکا چترویدی نے ایک ایسے وقت میں پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے جب کہ بھارت میں 17 ویں لوک سبھا کے انتخابات جاری ہیں۔

لوک سبھا کے انتخابات 7 مراحل میں ہوں گے جس میں سے 2 مراحل مکمل ہوچکے ہیں۔

لوک سبھا کے انتخابات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل اور دوسرا 18 اپریل کو مکمل ہوا تھا جب کہ تیسرا مرحلہ رواں ماہ 23 اپریل کو ہوگا۔

لوک سبھا کے انتخابات کا ساتواں اور آخری مرحلہ آئندہ ماہ 19 مئی کو ہوگا اور 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔

اطلاعات ہیں کہ پریانکا شیو سینا میں شمولیت اختیار کریں گی—فائل فوٹو: نیو انڈین ایکسپریس
اطلاعات ہیں کہ پریانکا شیو سینا میں شمولیت اختیار کریں گی—فائل فوٹو: نیو انڈین ایکسپریس