'سبق سکھانے کیلئے' عام شہری کا کانگریس رہنما کو تھپڑ

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

اس کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہے، ہارڈک پٹیل — فوٹو: اسکرین شاٹ ٹوئٹر
اس کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہے، ہارڈک پٹیل — فوٹو: اسکرین شاٹ ٹوئٹر

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع سندر نگر میں ایک عام شہری نے عوامی جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کانگریس رہنما کے منہ پھر تھپڑ دے مارا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں جاری رپورٹس کے مطابق کانگریس کے رہنما ہردک پٹیل جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک جلسے کے شرکا میں موجود ایک شخص اسٹیج تک پہنچا اور ان پر تھپڑوں کی بارش کردی۔

مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص نے پہلے کانگریس رہنما پر حملہ کیا جس کے بعد سیاسی رہنما کے حامیوں نے اسے پکڑ لیا۔

حملہ آور کی شناخت ترون گجر کے نام سے ہوئی جسے ہردک پٹیل کے حامیوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

ترون گجر کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہوں نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں ہردک پٹیل کو سبق سکھانا چاہتا تھا اور اسی وجہ سے اسے تھپڑ مارا۔

مزید پڑھیں: بھارتی انتخابات: اقتدار میں آنے کے لیے سیاستدانوں کے ڈرامے

اس نے بتایا کہ گجرات میں اگست 2015 میں ان کی اہلیہ حاملہ تھیں جو ہسپتال میں زیرِ علاج تھیں، تاہم اسی دوران پٹی در برادری کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے تھے جس کی وجہ سے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان مظاہروں کی سربراہی ہردک پٹیل کر رہے تھے، اور میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ جو تکلیف مجھے ہوئی ہے میں اس کا سبق کانگریس رہنما کو ضرور سکھاؤں گا۔

اپنے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ احمدآباد میں ہردک پٹیل کی ایک اور ریلی کے دوران شہر کی تمام دکانیں، سڑکیں اور یہاں تک کہ صحت کے مراکز بھی بند کر دیے گئے تھے جس کی وجہ سے انہیں اپنے بیٹے کے لیے ادویات خریدنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جلسہ عام کے دوران تھپڑ کھانے والے کانگریس رہنما نے اس حملے کا الزام حریف سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر عائد کردیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغٖ میں جاری رپورٹس کے مطابق ہردک پٹیل کا کہنا ہے کہ 'ہم واضح طور پر اس کارروائی کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ دیکھ سکتے ہیں'۔

کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ ایسے ہتھکنڈے انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے جبکہ انہوں نے مقامی افراد سے اپیل کی کہ حملہ آور کو نقصان نہ پہنچایا جائے بلکہ انہیں معاف کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ عمران خان، بھارت میں فسادات کروانا چاہتے ہیں‘، کیجریوال کا الزام

خیال رہے کہ بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات جاری ہیں جہاں تمام سیاسی جماعتیں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے عوامی رابطہ مہم میں مصروف ہیں۔

انتخابات کا آغاز 11 اپریل سے ہوا جو 19 مئی تک جاری رہیں گے جن میں ایوان زیریں (لوک سبھا) کے 543 اراکین کا انتخاب کیا جائے گا۔

بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے بعد گنتی کا عمل 23 مئی کو مکمل ہوگا۔