ماہرین کا ایچ آئی وی وائرس سے بچوں کی جینیاتی بیماری کا علاج کرنے کا دعویٰ

20 اپريل 2019

ای میل

علاج سے مستفید ہونے والوں میں 2 سالہ گائل بھی شامل ہے—فوٹو: لائیو سائنس
علاج سے مستفید ہونے والوں میں 2 سالہ گائل بھی شامل ہے—فوٹو: لائیو سائنس

امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے علاج کے جدید طریقے کو اپناتے ہوئے نظام ہاضمہ کی جینیاتی بیماری میں مبتلا 8 نوزائدہ بچوں کا علاج ’ایچ آئی وی‘ وائرس کے ذریعے کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں میں جینیٹک تھراپی کے ذریعے ایڈز کا باعث بننے والے ’ایچ آئی وی‘ وائرس کو منتقل کیا گیا۔

نوزائدہ بچوں میں ایچ آئی وی وائرس منتقل کیے جانے کے بعد بچوں کے بون میورو کی ڈین این اے ایڈیٹنگ کی گئی۔

سائنس جرنل ’دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن’ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹینیسی کے ایک ہسپتال میں ماہرین کی ایک ٹیم نے نظام ہاظمہ کی جینیاتی بیماری کے ساتھ پیدا ہونے والے 8 نوزائدہ بچوں میں جینیٹک تھراپی کے ذریعے ایچ آئی وی وائرس داخل کیا۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بچوں کی پیدائش کے فوری بعد ایچ آئی وی وائرس بچوں کے بون میورو سسٹم میں داخل کیا اور ان کے اسی سسٹم کے ڈین این اے کی ایڈینگ کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی کیا ہے اور اس کا علاج دریافت ہوگیا؟

ماہرین نے بتایا کہ جن بچوں میں ایچ آئی وی کا وائرس داخل کیا گیا وہ نظام ہاضمہ کی متعدد جینیاتی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوئے تھے اور ان کے نظام ہاضمہ میں انفیکشنز سے محفوظ رہنے یا ان کا مقابلہ کرنے کا کوئی سسٹم ہی موجود نہیں تھا۔

اس بیماری کو ’سیور کمبائنڈ ایمیونوڈفیشنسی‘ (ایس سی آئی ڈی) یا نظام ہاضمہ کی متعدد جینیاتی بیماریاں کہا جاتا ہے اور ایسی بیماری میں مبتلا بچوں کو ’ببل بوائے‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے نظام ہاضمہ کی جینیاتی بیماری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کے ڈین این اے کی ایڈیٹنگ ان کی پیدائش کے فوری بعد کی اور کئی ہفتوں تک انہیں زیر نگرانی علاج میں رکھا۔

ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اس نئے تجربے سے ایسے بچوں کو صحت مند زندگی دی جا سکے گی جو جینیاتی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔