نشوا کیس: کل تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کریں گے، والد قیصر علی

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2019

ای میل

ہم نے حکومت سندھ سے 3 مطالبات کیے تھے، جس میں سے 2 پورے نہیں ہوئے—اسکرین شاٹ
ہم نے حکومت سندھ سے 3 مطالبات کیے تھے، جس میں سے 2 پورے نہیں ہوئے—اسکرین شاٹ

کراچی میں مبینہ طور پر غلط انجیکشن سے موت کا شکار ہونے والی 9 ماہ کی بچی نشوا کے والد قیصر علی نے کہا ہے کہ ہم نے حکومت سندھ سے 3 مطالبات کیے تھے، جس میں سے 2 پورے نہیں ہوئے، لہٰذا اگر کل تک ان مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہسپتال کو سیل کرنے، دارالصحت ہسپتال کے مالکان کو گرفتار کرنے اور آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جس میں سے ہمارے 2 مطالبے پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ میری بیٹی کی موت کی ذمہ دار ہسپتال انتظامیہ ہے، لہٰذا اس واقعہ کی آزادانہ انکوائری کروائی جائے اور دارالصحت ہسپتال کے مالکان کو گرفتار کیا جائے۔

مزید پڑھیں: غلط انجیکشن سے نشوا کے انتقال پر دارالصحت ہسپتال سیل

قیصر علی نے مزید کہا کہ کل شام 5 بجے تک کی ڈیڈلائن ہے اگر تب تک یہ کام نہیں ہوتے تو اتوار کو احتجاج کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے اسے کسی سے منسوب نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا نشوا کی جب حالت خراب ہوئی تو ہسپتال کی جانب سے کہا گیا کہ ہمارے پاس نہ ماہرین ہیں اور نہ ہی آئی سی یو، آپ بچی کو وینٹی لیٹر پر لے جاسکتے ہیں۔

پولیس کے رویے کے حوالے سے نشوا کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس کے رویے میں کافی تبدیلی آئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اگر انہیں گرفتار نہیں کریں گے تو ہم احتجاج چھوڑ دیں گے، ہم پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال انتظامیہ نے سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا، اس طرح کے غیر رجسٹرڈ ہسپتالوں کے خلاف انکوائری کمیشن بنانا چاہیے۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع دارالصحت ہسپتال میں غلط انجیکشن کا شکار ہونے والی 9 ماہ کی بچی کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد 22 اپریل کو انتقال کرگئی تھی۔

6 اپریل کو قیصر علی اپنی 9 ماہ کی بیٹی نشوا کو طبیعت خراب ہونے پر دارالصحت ہسپتال لائے تھے، غلط انجیکشن کا یہ واقعہ 7 اپریل کو پیش آیا تھا، جہاں ایک ملازم نے 9 ماہ کی نشوا کو مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگایا، جس سے بچی کی حالت بگڑ گئی تھی اور ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوگئے جبکہ 71 فیصد دماغ مفلوج ہوچکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: غلط انجیکشن کا شکار 9 ماہ کی بچی انتقال کرگئیں

بعد ازاں ننھی بچی کو لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں رہی تھی، تاہم وہ کئی روز تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئی تھی۔

اس واقعے میں 4 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے نرسنگ انچارج عاطف جاوید، ایڈمنسٹریشن آفیسر احمد شہزاد اور سیکیورٹی انچارج ولید کے ریمانڈ میں گزشتہ روز توسیع کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر دارالصحت ہسپتال کا شعبہ او پی ڈی بھی سیل کردیا تھا۔