امریکی افواج میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے 21 ہزار واقعات کا انکشاف

شائع May 3, 2019 اپ ڈیٹ May 3, 2019 01:20am
‘جنسی ہراساں کے 3 واقعات میں سے صرف ایک ہی حکام کے پاس رپورٹ ہوئے‘—فوٹو: اے ایف پی
‘جنسی ہراساں کے 3 واقعات میں سے صرف ایک ہی حکام کے پاس رپورٹ ہوئے‘—فوٹو: اے ایف پی

امریکا کی بری، بحری، فضائیہ اور مرین فورسز میں سال 2018 کے دوران خواتین اہلکاروں کے ساتھ ’زبردستی ناجائز جنسی تعلقات‘ قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آنے پر قائم مقام سیکریٹری دفاع نے فوج میں جنسی ہراساں کو ’جرم‘ قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق حالیہ سروے میں انکشاف ہوا کہ ’گزشتہ برس امریکی مسلح افواج میں خاتون ساتھی کے ساتھ ’عدم رضامند پر مبنی جنسی تعلق‘ قائم کرنے کے 20 ہزار 500 واقعات پیش آئے جبکہ سال 2016 میں ایسے واقعات کی تعداد 14 ہزار 900 ریکارڈ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سائنسدان پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام

رپورٹ تیار کرنے والے محققین نے بتایا کہ ’85 فیصد سے زائد واقعات میں متاثرہ فوجی خواتین کو اپنے حملہ آوار کے بارے میں معلوم تھا اور بیشتر حملہ آوار ان کے سینئر افسران تھے‘۔

رپورٹ کے مطابق امریکی مسلح افواج کا حصہ بننے والی 17 سے 24 برس کی خواتین ہلکار اپنے ہی ساتھی فوجیوں کے ہاتھوں جنسی ہراساں ہوئی۔

امریکی محکمہ دفاع
امریکی محکمہ دفاع

سروے رپورٹ میں ایک تھائی جنسی ہراساں کے واقعات میں شراب نوشی بڑا سبب قرار دیا گیا۔

محققین نے یقین سے کہا کہ سروے پر 95 فیصد اعتماد ہے تاہم سروے میں ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو شامل کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’جنسی ہراساں کے 3 واقعات میں سے صرف ایک ہی فوج کے متعلقہ حکام کے پاس رپورٹ ہوئے‘۔

مزید پڑھیں: امریکا میں خاتون کو جنسی ہراساں کرنے پر بھارتی شہری کو 9 سال قید

اس ضمن میں پینٹاگون نے کہا ’2006 میں صرف 14 خواتین نے جنسی ہراساں کیے جانے کی رپورٹ کرائی‘۔

قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹر شینناہن نے رپورٹ کے پیش کردہ اعداد وشمار پر کہا کہ’جنسی ہراساں غیرقانونی اور غیراخلاقی ہے اور امریکی فوج کے مشن سے مطابقت نہیں رکھتا اور ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں‘۔

انہوں نے امریکی فوج پر زور دیا کہ وہ جنسی ہراساں کے عمل کو ’جرم‘ کے دائرے کار میں لائے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026