سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار مرکزی سطح پر منتقل

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے اختیارات کے غلط استعمال پر چیف کمشنرز کا احتساب کرنے پر ابھی غور نہیں کیا — فائل فوٹو/ڈان نیوز
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے اختیارات کے غلط استعمال پر چیف کمشنرز کا احتساب کرنے پر ابھی غور نہیں کیا — فائل فوٹو/ڈان نیوز

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نئے چیئرمین شبر زیدی نے ٹیکس افسران کو کسی بھی ٹیکس دہندہ کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے سے پہلے پیشگی اجازت لینے کی ہدایت کردی۔

ایف بی آر کے سربراہ کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یہ ان کی دوسری اہم ہدایت ہے جو ان لینڈ ریونیو کے تمام چیف کمشنرز کو دی گئی، جو ملک بھر کے مقامی ٹیکس آفسز اور بڑے ٹیکس دہندگان کے یونٹس کی سربراہی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ جب ایک مرتبہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل ہوجاتی ہے تو متعلقہ ٹیکس دہندہ، ٹیکس ادائیگی کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

موجودہ حالات میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ایک ٹیکس افسر یا انکم ٹیکس کمشنر کی منظوری سے ٹیکس نا دہندہ کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرسکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیشگی اطلاع کے بغیر بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے پر پابندی

تاہم ایف بی آر نے اختیارات کے غلط استعمال پر چیف کمشنرز کا احتساب کرنے پر ابھی غور نہیں کیا۔

یوں کسی ٹیکس افسر کے ذریعے اختیارات کے غلط استعمال پر چیف کمشنر کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے چیئرمین ایف بی آر نے نادہندگان کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطلی کے اختیارات مرکزی سطح پر منتقل کردیے۔

چیئرمین ایف بی آر کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ’ٹیکس دہندگان کی فہرست سے اس وقت تک کسی ٹیکس دہندہ کا نام معطل نہیں کیا جائے گا جب تک 24 گھنٹے پہلے اس بارے میں مذکورہ کاروبار کے سربراہ سے براہِ راست ملاقات نہ کرلی جائے‘۔

شبر زیدی کے احکامات کے مطابق رجسٹریشن معطلی کے بعد تمام کیسز کی فہرست، معطلی کی وجوہات اور ذاتی ملاقات کے ثبوت کے ساتھ چیئرمین ایف بی آر اور ان لینڈ ریونیو (آپریشنز) کے اراکین کو بھیجی جائے گی۔

واضح رہے کہ ٹیکس افسران ان اختیارات کا زیادہ تر ٹیکس فراڈ میں استعمال کرتے تھے لیکن چند ایسے بھی کیسز سامنے آئے، جس میں ممکنہ طور پر معطلی دیگر وجوہات کی بنا پر کی گئی۔

مزید پڑھیں: ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کروں گا، چیئرمین ایف بی آر

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کاروباری افراد کی سہولت کے لیے کیا ہے، اس کے ساتھ انہوں نے بجٹ میں مزید سہولت کے اقدامات کا اعلان کرنے کا عندیہ بھی دیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اعلیٰ افسران کو ہدایت کی کہ ایف بی آر چیئرمین اور آپریشنل اراکین کی پیشگی منظوری کے بغیر کاروباری مراکز یا دفاتر پر چھاپے نہیں مارے جائیں۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ ’اگر کسی ایسی اقتصادی منتقلی کے شواہد ہوں جس پر ٹیکس چارج کیا جاسکتا ہو اور اس ادارے یا شخص نے ٹیکس رجسٹریشن نہیں کروائی ہو تو اس بارے میں مذکورہ افسر آپریشنز اراکین اور چیئرمین کو آگاہ کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق تفصیلات ملنے کے بعد چیئرمین ایف بی آر مزید اقدامات اٹھانے کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں گے۔


یہ خبر 15 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔