وزیرصحت کےخلاف مقدمہ درج ہونے تک خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز کا ہڑتال کا اعلان

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

حکومت سے غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں، ڈاکٹر سراج—فوٹو: سراج الدین
حکومت سے غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں، ڈاکٹر سراج—فوٹو: سراج الدین

خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل (کے پی ڈی سی) نے سرجیکل وارڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر کو مبینہ طور پر زد و کوب کرنے والے صوبائی وزیر صحت اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے پر صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔

کے پی ڈی ایس کے رکن ڈاکٹر سراج نے ڈان نیوز کو بتایا کہ ’وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام اللہ خان اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے تک تمام طبی مراکز میں ہڑتال جاری رہے گی‘

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پر ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی حمایت کا الزام

انہوں نے بتایا کہ ’ہڑتال سے متعلق فیصلہ کے پی ڈی سی کے اجلاس میں لیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر تمام طبی عملہ ایک صفحے پر ہے اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال (کے ٹی ایچ) کے ڈاکٹروں نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے پر ہڑتال کردی تھی۔

بعد ازاں سراپا احتجاج ڈاکٹروں نے ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے متصل یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کردی۔

اس دوران ڈاکٹروں پر مشتمل پانچ رکنی ٹیم صوبائی وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے گئی تو انہیں بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب، خیبرپختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، مریضوں کو مشکلات کا سامنا

کے پی ڈی سی کے رکن ڈاکٹر فاروق نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں کے مابین سخت جملوں کے دوران ایک دوسرے کو دھکے بھی دیئے گئے۔

صوبائی وزیر کی جانب سے ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو تشدد کا نشانہ بنانے سے قبل بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی پروفیسر نوشیروان برکی ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے کہ اس دوران ڈاکٹر ضیا الدین آفریدی میٹنگ ہال کا دروازہ کھولتے ہوئے داخل ہوئے اور خیبر میڈیکل کالج میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات نہ کیے جانے کا شکوہ کرنے لگے۔

اسی اثنا میں ڈاکٹر ضیاالدین نے پروفیسر نوشیروان برکی پر انڈے پھینکے جس کے بعد پولیس ڈاکٹر ضیاالدین کو میٹنگ ہال سے باہر لےگئی۔

ایک گھنٹے بعد صوبائی وزیر صحت ہسپتال پہنچے اور پروفیسر نوشیروان برکی کی درخواست پر ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی۔

خیال رہے کہ پروفیسر نوشیروان برکی امریکا سے ہر ماہ پاکستان کا دورہ کرتے ہیں اور شعبہ صحت میں 2013 سے اصلاحات لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: کم عمری، جبری شادی کے خلاف بل منظور، سول سوسائٹی معترف

وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام کی ڈاکٹرز سے ملاقات کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جو جلد ہی جسمانی تشدد کی صورت اختیار کرگیا۔

اسی دوران وزیر صحت کے گارڈز پیچھے سے آئے اور سرجن کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ضیاالدین کے سر اور گردن پر چوٹیں آئیں۔

ڈاکٹر نوشیروان برکی پر انڈے پھینکے کے الزام میں ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

بعد ازاں ڈاکٹر حشام انعام نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے صرف ’اپنا تحفظ‘ کیا۔

صوبائی وزیر نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ڈاکٹر نوشیروان برکی سے ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے طرز عمل کی معافی مانگنے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کم عمری کی شادیاں، وجوہات اور اُن کے نقصانات

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’ڈاکٹر ضیاالدین کے ہاتھ میں تیز دھار والا کوئی آلہ تھا جس کے بعد ان کے گارڈز نے کے ٹی ایچ کے اسسٹنٹ پروفیسر کو روکا اور زد و کوب کیا۔

دوسری جانب ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی وزیر صحت نے ان سے بدزبانی کی اور اپنے گارڈز کو زدوکوب کرنے کا حکم دیا۔

اس دوران وزیراعلیٰ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔

بعدازاں ہسپتال انتظامیہ نے خیبرمیڈیکل کالج میں ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے داخلے پر پابندی لگادی۔