انشاءاللہ، ہم اگلے ورلڈ کپ میں ضرور اچھا کھیلیں گے!

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

اپریل 2016ء، یعنی آج سے ٹھیک 3 سال پہلے انضمام الحق کو بطور چیف سلیکٹر تعینات کیا گیا تھا اور انہیں اس امید کے ساتھ لایا گیا تھا کہ جس طرح انہوں نے بطور کھلاڑی ٹیم کو ہمیشہ سہارا دیا ویسے ہی وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ایسی ٹیم تشکیل دے سکیں گے، جو 1992ء کے بعد ایک بار پھر ورلڈ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوسکے۔

اگرچہ اس ٹیم کی تشکیل کا کام انگلینڈ کے خلاف سیریز سے پہلے ہی ہوگیا تھا، جن میں 2 اضافی کھلاڑیوں محمد عامر اور آصف علی کو رکھا گیا تھا، تاکہ ان دونوں کو آخری موقع دے دیا جائے، اگر وہ اچھا کھیلے تو منتخب کرلیا جائے گا اور اگر نہیں تو پھر اسی ٹیم کو فائنل سمجھا جائے۔

اس ابتدائی ٹیم پر کئی اعتراض اٹھائے گئے تھے، لیکن سلیکشن کمیٹی نے اپنی ٹیم کا دفاع کیا جو خوش آئند تھا، کیونکہ یہی اچھا طریقہ ہوتا ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیا جائے، لیکن جب فیصلہ ہوجائے تو پھر پیچھے نہ ہٹا جائے۔

جو اعتراض اٹھائے گئے تھے، ان میں سب سے اہم عثمان خان شنواری کی جگہ نوجوان محمد حسنین کو شامل کرنا تھا۔ اس اعتراض کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ورلڈ کپ سے کم از کم ایک سال پہلے ہی دُور اندیش انتظامیہ فیصلہ کرلیتی ہے کہ کن کن کھلاڑیوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بڑے ایونٹ کے لیے انہیں منتخب کیا جائے۔

ہماری ’دُور اندیش‘ انتظامیہ نے عین ورلڈ کپ سے پہلے تک یہ کام بھرپور انداز میں کیا، مگر آخر میں وہ پگھل گئی۔ یعنی جو عثمان شنواری مستقل ٹیم کا حصہ تھے، وہ صرف اس لیے ٹیم سے باہر کردیے گئے کیونکہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ایک ایسا نوجوان باؤلر آگیا تھا جس کی رفتار زیادہ ہے۔

دوسرا اعتراض فہیم اشرف کی سلیکشن تھی کیونکہ وہ کھیلتے تو بطور آل راؤنڈر ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی انہوں نے بیٹنگ کے شعبے میں کچھ خاص کرلیا ہو۔ بیٹنگ کی بات کی جائے تو انہوں نے 23 ایک روزہ میچوں میں 12.46 کی ایوریج سے محض 162 رنز بنائے ہیں اور اگر باؤلنگ کی بات کی جائے تو اتنے ہی میچوں میں 37.20 کی ایوریج سے محض 20 وکٹیں لی ہیں۔ اس ریکارڈ کے حامل کھلاڑی کس طرح کسی بھی ٹیم کے لیے آٹو میٹک چوائس بن سکتے ہیں؟ یہ بڑا سوالیہ نشان تھا، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان کو گھر واپس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

تیسرا بڑا اعتراض محمد عامر کی جگہ جنید خان کی شمولیت پر اٹھایا گیا تھا۔ اس اعتراض پر سلیکشن کمیٹی کا مؤقف تھا کہ چونکہ گزشتہ ایک سال میں عامر کی کارکردگی اچھی نہیں رہی، اس لیے ہم ان کو آخری مرتبہ آزمانا چاہتے ہیں، اگر وہ اچھا کھیلے تو انہیں ضرور ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا مگر امتحان ضروری ہے۔

سچ پوچھیے تو یہ حکمت عملی اتنی بُری بھی نہیں تھی لیکن بدقسمتی سے سیریز شروع ہوتے ہی عامر کو چکن پوکس ہوگئے، لہٰذا وہ ایک میچ بھی نہیں کھیل سکے۔ بظاہر تو کوئی بھی میچ نہ کھیلنا ان کے خلاف جارہا تھا لیکن سیریز کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ شاید ان کے نصیب کچھ زیادہ ہی اچھے ہیں۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلی جانے والی سیریز کے لیے جس طرح کی وکٹیں تیار کی گئیں، عام طور پر انگلینڈ کی وکٹوں کا یہ مزاج نہیں ہوتا۔ اگرچہ اب زمانے کی تبدیلی کے ساتھ وکٹیں بیٹسیمنوں کے لیے جنت بنادی گئیں مگر پھر بھی انگلینڈ میں باؤلرز کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے، لیکن اس بار ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ یہی وجہ تھی کہ کھیلے جانے والے 4 ایک روزہ میچ کی 8 میں سے 7 اننگز میں ٹیموں نے 300 سے زائد رنز اسکور کیے، یعنی ساری بُرائی باؤلرز پر آئی۔ پھر پاکستانی باؤلرز کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ فیلڈرز نے ان کا بالکل بھی ساتھ نہیں دیا، یوں مسائل مزید بڑھ گئے۔

ایسی صورت میں اگر عامر بھی یہاں باؤلنگ کرتے تو عام خیال یہی ہے کہ ان کا حال بھی بقیہ باؤلرز جیسا ہونا تھا، مگر وہ خوش قسمت ٹھہرے اور نہ کھیل کر ہیرو تصور ہونے لگ گئے۔ بالکل ایسا ہی وہاب ریاض کے ساتھ بھی ہوا، جو ہوا کے ساتھ ساتھ اُڑتے ہوئے اچانک تقریباً 2 سال بعد صرف ٹیم کا حصہ ہی نہیں بلکہ ورلڈ کپ کا حصہ بھی بن گئے، جو ہر کھلاڑی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔

آئیے آپ کو ان تینوں تیز رفتار باؤلرز کے آخری 5 میچوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں اور پھر اسی روشنی میں خود ہی فیصلہ کیجیے گا کہ جنید خان کو گھر بھیجنا ٹھیک فیصلہ تھا یا نہیں۔

کچھ باتیں وہاب ریاض سے متعلق

وہاب ریاض نے ایک روزہ کرکٹ میں قومی ٹیم کی آخری مرتبہ نمائندگی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف کی تھی جس میں وہ 8.4 اوورز کرنے کے بعد انجری کا شکار ہوگئے تھے۔ اس میچ میں انہوں نے 8.4 اوورز میں 10.03 کی اکونومی ریٹ کے ساتھ 87 رنز دیے تھے، اور اگر وہ پورے 10 اوور کرلیتے تو 100 رنز کراس کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔

انضام الحق نے وہاب رہاض کی سلیکشن کی وجہ یہ بتائی کہ ان کے پاس تجربہ ہے، اسپیڈ ہے، یارکر کی صلاحیت ہے۔ لیکن ان تمام تر صلاحیتیوں کے بعد انہوں نے انگلینڈ کی سرزمین پر آخری 7 ایک روزہ میچ میں 96 کی اوسط سے صرف 4 وکٹیں لیں، اب ایسی صورت میں انہیں کس طرح اسکواڈ میں پہلے سے منتخب کھلاڑی پر ترجیح دی جاسکتی ہے؟

یہی وہ کارکردگی تھی جس کے بعد کوچ مکی آرتھر نے اپریل 2018ء میں یہ اہم بیان جاری کیا تھا کہ ’وہاب ریاض نے گزشتہ 2 سال میں قومی ٹیم کو کوئی ایک میچ بھی نہیں جتوایا، ہم ایسے تجربہ کار کھلاڑیوں سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ جیت میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مثال قائم کریں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ہم نوجوان کھلاڑیوں کو آزمائیں گے، جن کا آگے طویل مستقبل ہے‘۔

لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ کوچ، کپتان، چیف سلیکٹر سب نے ایک ساتھ یوٹرن لیا اور اپنی ہی کی گئیں باتوں سے انحراف کرلیا۔

ذاتی خیال

جس ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے، مجھے ذاتی طور پر وہاب ریاض کی شمولیت کے سوا کسی بھی کھلاڑی پر کچھ زیادہ اعتراض نہیں ہے۔ امید اور دعا یہی ہے کہ ہم ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

لیکن ناجانے کیوں بار بار یہ گمان بڑھتا جارہا ہے کہ کوچ اور چیف سلیکٹر پسند اور ناپسند کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک فواد عالم جب مستقل ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھا پرفرام کررہے تھے تو انضام الحق نے انہیں منتخب نہیں کیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی ضد اور انا کی بنیاد پر ایسا کررہے ہیں۔

اسی طرح جنید خان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ انہیں جب جب موقع ملا، انہوں نے تب تب اچھا کھیل پیش کیا، ماسوائے اس انگلینڈ کی سیریز میں، لیکن اس سیریز میں تو کسی بھی باؤلر نے اچھا نہیں کھیلا۔ لہٰذا حق تو یہی تھا کہ اُس باؤلر کو باہر کیا جاتا جس نے سب سے خراب کارکردگی دکھائی ہے۔

اس سیریز میں فاسٹ باؤلرز میں کس نے کیا کیا، آئیے اس پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں۔

اس اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پھر ٹیم سے باہر تو حسن علی کو کیا جانا چاہیے تھا، لیکن چونکہ وہ کوچ کے قریب سمجھے جاتے ہیں تو اس بار بھی قربانی کا بکرا جنید خان کو بنایا گیا، جو سراسر زیادتی ہے، اور وہاب ریاض کے لیے ایسا کرنا تو ظلمِ عظیم ہے۔

اتنے سخت الفاظ ہرگز نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن جب میں وہاب ریاض اور جنید خان کے انگلینڈ میں کھیلے گئے آخری 7 ایک روزہ میچوں کی کارکردگی دیکھتا ہوں تو حیران ہوجاتا ہوں کہ یہ سب آخر ہو کیسے سکتا ہے۔

وہاب ریاض نے انگلینڈ میں آخری 7 ایک روزہ میچ میں 96 کی اوسط سے صرف 4 وکٹیں لی، جبکہ دوسری طرف جنید خان نے اتنے ہی میچوں میں 5.05 کی ایکونومی ریٹ کے ساتھ 11 وکٹیں لی ہیں۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ غصہ جائز ہے یا نہیں؟

سلیکٹرز اعصاب کا مقابلہ ہار گئے

کسی بھی ماہر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی چیز پر ناصرف فخر کرتا ہے بلکہ اس پر بھروسہ بھی رکھتا ہے کہ اس نے جو چیز تیار کی ہے وہ زبردست ہے۔ کیونکہ کسی بھی چیز کی تیاری یکدم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لیے پہلے پورا دماغ بنایا گیا ہوتا ہے، ہر ایک اچھے اور بُرے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہوتا ہے اور پھر جب ہر طرح سے تسلی ہوجاتی ہے تب وہ چیز تیار کی جاتی ہے۔

ٹیم سلیکشن کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ گزشتہ 3 سال سے یہ ذمہ داری ادا کرنے والے انضمام الحق اس حوالے سے بہت واضح ہونے چاہیے تھے کہ کون سے کھلاڑی ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں منتخب ہوسکتے ہیں، اور پھر انہیں ساتھ لے کر چلتے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ مشکل وقت میں ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، وہ گھبرا گئے اور یہ اسی گھبراہٹ کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی کسی بات پر بھی قائم نہیں رہے اور ہر وہ کام کرلیا جس سے کاندھوں پر پڑنے والے شدید دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جاسکے۔

جب انضمام الحق نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ عامر کو صرف اسی صورت ٹیم میں منتخب کریں گے جب وہ اپنی فارم کو ثابت کردیں، تو پھر کس طرح بغیر کوئی میچ کھیلے بھی ان کا ٹیم میں سلیکشن ممکن ہوگیا؟ یہ ٹھیک عمل نہیں ہے کہ کسی کے لیے منتخب کردہ کھلاڑیوں کو باہر کردیا جائے۔ نوجوان عابد علی اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے کہ انہیں آخر کیوں نکالا گیا؟ کیا قصور تھا ان کا؟ آخر محمد حفیظ اور شعیب ملک میں ایسے کونسے ہیرے موتی لگے ہوئے ہیں کہ انہیں واپس گھر نہیں بھیجا جاسکتا تھا؟

مڈل آرڈر میں جگہ بنانے کے لیے اوپنر کو باہر کرنا بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی فرد کا ہاتھ ٹوٹ جائے اور ڈاکٹر کہے کہ یار ہاتھ تو ابھی میسر نہیں ہے، ایک کام کرتے ہیں کہ اس ہاتھ کی جگہ لات لگادیتے ہیں۔

بہرحال، فی الوقت صورتحال ٹیم کے لیے اچھی نہیں ہے، اور اس وقت تک نہیں رہے گی جب تک ہم ورلڈ کپ کے ابتدائی ای دو میچ جیت کر اپنے اعتماد کو واپس بحال نہیں کرتے۔ بس دعا یہی ہے کہ ماضی کی طرح ہم ورلڈ کپ کے اختتام پر کہیں یہ نہ کہہ رہے ہوں کہ اس بار کچھ غلطیاں ہوگئیں، لیکن انشاءاللہ، ہم اگلے ورلڈ کپ میں ضرور اچھا کھیلیں گے!