نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے، اسے تھکائیں گے، آصف زرداری

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

’ابھی تو ابتدا عشق ہے‘، آصف علی زرداری کا اپوزیشن کے افطار ڈنر پر تبصرہ — فائل فوٹو: ٹوئٹر
’ابھی تو ابتدا عشق ہے‘، آصف علی زرداری کا اپوزیشن کے افطار ڈنر پر تبصرہ — فائل فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کردیا۔

یہ اعلان انہوں نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے دوران صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ وہ نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ اس تھکائیں گے، کیونکہ اگر بائیکاٹ کریں گے تو کہا جائے گا کہ ہم قانون کا احترام نہیں کر رہے۔

یہ بھی دیکھیں: نیب اور معیشت ساتھ چل سکتے ہیں لیکن کرپشن نہیں، چیئرمین نیب

جب ان سے چیئرمین نیب کے انٹرویو سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کا عہدہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ٹی وی چینل پر انٹریو دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ چیئرمین نیب کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔

شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے نیب کے ہاتھوں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 80 سالہ بوڑھوں کو بھی عدالت میں لایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کا مقدمہ درج ہوا تو اس کا بھی دفاع کر سکتا ہوں، زرداری

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ابھی ملزمان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا لیکن پھر بھی انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بوڑھوں کو جیلوں میں بھی ڈالو اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت بھی چلاؤ، تو پھر یہ کیسے چلے گا؟

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایک افطار ڈنر سے حکومت اتنی پریشان ہوگئی جس پر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ابھی تو ابتدا عشق ہے۔‘

یاد رہے کہ چند روز قبل آصف زرداری نے نیب کی کارروائیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، انہوں نے موجودہ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سابق صدر کے بیان کے چند روز بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب سے عہدہ سنبھالا ہے تو کبھی بھی اپنی ذات پر ہونے والی تنقید پر کوئی گلہ نہیں کیا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس طرح کے کاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے لیکن دو تین دن سے صورتحال ٹھیک نہیں جس پر بحیثیت چیئرمین نیب میرا خاموش رہنا ادارے کے لیے مناسب نہیں تھا۔

چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ بڑا بلند بانگ دعویٰ ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور چلیں گے لیکن نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔