بھارتی انتخابات: ووٹوں کی گنتی کا آغاز، شام تک نتائج کا اعلان متوقع

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

ان انتخابات کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ریفرنڈم بھی کہا جارہا ہے — تصویر: رائٹرز
ان انتخابات کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ریفرنڈم بھی کہا جارہا ہے — تصویر: رائٹرز

بھارت میں عام انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے عمل کا آغاز جمعرات کی صبح ہوا جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک مرتبہ پھر اقتدار سنبھالنے کا امکان ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ووٹوں کی گنتی کا عمل شام تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ دوپہر تک صورتحال بڑی حد تک واضح ہوجانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے قرار دیے جانے والے ان انتخابات میں 90 کروڑ لوگ رجسٹرڈ ووٹر تھے جنہوں نے بھارت کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا کی 542 نشستوں پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سب سے بڑے عام انتخابات ختم، فاتح کون ہوگا؟

11 اپریل کو شروع ہونے والے بھارتی انتخابات تقریباً 6 ہفتوں تک جاری رہے اور 7 مراحل میں پایہ تکمیل تک پہنچے۔

بھارت میں الیکٹرونک مشین کے ذریعے ووٹنگ کا آغاز 15 سال پہلے ہوا تھا—تصویر:رائٹرز
بھارت میں الیکٹرونک مشین کے ذریعے ووٹنگ کا آغاز 15 سال پہلے ہوا تھا—تصویر:رائٹرز

ان انتخابات کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ریفرنڈم بھی قرار دیا جارہا ہے جن کی معاشی اصلاحات تو بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں لیکن طبقات میں بٹے بھارتی معاشرے کے سوشل میڈیا پر ان کی مقبولیت بہت بڑھ چکی ہے۔

اس سلسلے میں کیے گئے نصف درجن ایگزٹ پولز کے مطابق بھارتی وزیر اعظم اور ان کی جماعت مزید 5 سالوں کے مسند اقتدار سنبھالتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

انتخابات کے دوران ووٹرز نے تقریباً 4 کروڑ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

بھارت میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین 15 سال قبل متعارف کروائی گئی تھی جس وقت کاغذ کے بیلٹ پیپر کی گنتی میں دھوکہ دہی، استحصال کی شکایات بہت بڑھ گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: ایگزٹ پولز: نریندر مودی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان

دوسری جانب سیاسی جماعتیں ایسے افراد کا استعمال کرنے لگی تھیں جو زبردستی گن پوائنٹ پر ٹھپے لگواتے تھے، اس وقت حکام نے ان مسائل کے حل کے لیے یہ دوسرا راستہ نکالا۔

الیکٹرونک مشینوں پر ووٹنگ کے باجود ہارنے والی جماعتیں اور امیدوار اس طریقہ کار کے درست اور قابل بھروسہ ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔

یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کا استعمال، امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور نیدر لینڈز جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: اپوزیشن جماعتیں ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی رپورٹس سے پریشان

یہ اعتراض چند روز قبل ایک مرتبہ پھر اس وقت میڈیا کی شہہ سرخیوں میں آیا جب سماجی روابط کی ویب سائٹس پر الیکٹرونک مشینوں کی منتقلی کی ویڈیو منظر عام پر آئیں۔

جس پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ ان مشینوں کو نتائج میں تبدیلی کے لیے منتقل کیا جارہا ہے لیکن الیکشن کمیشن انڈیا کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں منتقل ہوتے دیکھی گئی مشینیں وہ ہیں جو انتخابات میں استعمال نہیں ہوئیں۔