فیصل آباد: مزدور کو بھٹی میں دھکا دینے کا الزام، چینی انجینئر گرفتار

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

مزدور اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
مزدور اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

فیصل آباد: ساہیان والا پولیس نے صنعتی علاقے میں واقع فیکٹری میں مزدور کو بھٹی میں دھکا دینے کے الزام میں چینی انجینئر کو گرفتار کرلیا۔

گرم بھٹی میں گرنے والا مزدور اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہے اور جلنے سے اس کے جسم کا 40 فیصد حصہ متاثر ہوا۔

مذکورہ حادثے کے بعد مزدوروں کی جانب سے چینی انجینئروں کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور مشتبہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا جس کے بعد چینی انجینئروں اور مزدوروں کے درمیان بات چیت ہوئی۔

مزدوروں نے پولیس سے مشتبہ شخص کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور عدم گرفتاری کی صورت میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال پر جانے کی دھمکی بھی دی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی لڑکی سے شادی کا الزام، ایک اور چینی باشندہ گرفتار

بعض مزدوروں نے صحافیوں کو بتایا کہ فیکٹری میں کام کرنے والے چینی شہریوں کا رویہ ان کے ساتھ انتہائی سخت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن غیر ملکی شہریوں کو پولیس اور دیگر حکومتی عہدیداران کی جانب سے پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے ان کے خلاف کوئی شکایت سنی نہیں جاتی۔

مزدوروں نے الزام عائد کیا کہ بات چیت کرتے ہوئے چینی انجینئر نے دانستہ طور پر شہروز نامی مزدور کو 3 فٹ گہری بھٹی میں دھکا دیا تھا۔

تاہم جائے حادثہ سے قریب موجود شہروز کے چند ساتھیوں نے فوری مدد کرتے ہوئے اسے باہر نکالا اور ہسپتال منتقل کیا۔

مزدوروں نے کہا کہ پولیس اب اس معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے اور شہروز کو یہ بیان دینے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ حادثاتی طور پر بھٹی میں گرا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیوں کے الزام میں مزید 3 چینی باشندے گرفتار

مدینہ ڈویژن سپرنٹنڈنٹ پولیس طاہر مقصود نے کہا کہ حادثہ بیٹری تیار کرنے والے یونٹ میں پیش آیا جہاں ایک مشین کا ریموٹ کنٹرول گم ہونے پر مزدور اور اس کے چینی سپر وائزر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مزدور الزام عائد کررہے ہیں کہ سپروائزر نے ان کے ساتھی کو جان بوجھ کر بھٹی میں پھینکا جبکہ غیرملکی شہری کا دعویٰ ہے کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔

ایس پی طاہر مقصود نے مزید بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق شہروز کا 40 فیصد جسم جھلس چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا۔


یہ خبر 23 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی