ہم پر بم گر جائیں، اپنی منزل سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

امریکا کی ایران پر پابندیوں کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی
امریکا کی ایران پر پابندیوں کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ تہران امریکی دباؤ میں آکر اپنی منزل سے پیچھے نہیں ہٹے گا چاہے ہم پر بم گر جائیں'۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق 1980 میں ہونے والی ایران ۔ عراق جنگ کی یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ 'ہمیں مزاحمت کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے دشمنوں کو معلوم ہو کہ اگر انہوں نے ہماری زمین پر بم بھی گرائے اور ہمارے بچوں کو شہید، زخمی یا گرفتار کیا گیا، تب بھی ہم اپنے ملک کی آزادی اور اپنے وقار کی منزل مقصود سے دستبردار نہیں ہوں گے'۔

مزید پڑھیں: ایران اتنا عظیم ہے کہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوسکتا، ایرانی صدر

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے اور واشنگٹن نے خلیج فارس میں بحری جنگی بیڑا اور بی 52 بمبار تعینات کر دیئے ہیں۔

تاہم امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ٹوئٹ میں امریکی مفاد سے تضاد کی صورت میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

بعد ازاں ٹرمپ نے اپنی ہی دھمکی کا زور توڑتے ہوئے کہا کہ 'اگر تہران ایک قدم بڑھاتا ہے تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔'

یہ بھی پڑھیں: ایرانی عوام امریکا، اسرائیل، سعودی عرب پر غصہ کریں، حسن روحانی

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ایسے لوگوں سے مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں جنہوں نے وعدہ خلافی کی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر تہران کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ہر کسی کو دردناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے گزشتہ برس دستبردار ہوگئے تھے۔