راہول گاندھی کا پارٹی صدارت چھوڑنے پر اصرار، رہنماؤں کا انکار

اپ ڈیٹ 25 مئ 2019

ای میل

بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعت کے رہنما نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں استعفیٰ دیا جسے مسترد کردیا گیا — فائل فوٹو/ہندستان ٹائمز
بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعت کے رہنما نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں استعفیٰ دیا جسے مسترد کردیا گیا — فائل فوٹو/ہندستان ٹائمز

بھارت کی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی کے پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ استعفے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راہول گاندھی نے انتخابات میں بدترین ناکامی کے بعد ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے پر شدید اصرار کیا لیکن کانگریس ورکنگ کمیٹی نے راہول گاندھی کے استعفے کو مسترد کردیا۔

کانگریس جماعت کی اعلیٰ قیادت کا لوک سبھا کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لگاتار دوسری کامیابی کے بعد عام انتخابات میں پارٹی کی ناکامی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا ہے۔

کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میں جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی، یونائیٹڈ پروگریسو الائنس کی چیئرپرسن اور راہول گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی، سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور کانگریس کی حکمراں ریاستوں پنجاب، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: راہول گاندھی کا پارٹی سربراہی چھوڑنے کا امکان، رہنماؤں کے استعفوں کی بھرمار

اجلاس شروع ہوتے ہی بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں راہول گاندھی کے مستعفی ہونے کی خبر جاری کی گئی تھی تاہم کانگریس رہنماؤں نے اس خبر کی تردید کردی۔

کانگریس رہنما رندیپ سنگھ نے کہا کہ راہول گاندھی کے پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔

این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران راہول گاندھی نے کہا کہ وہ اپ پارٹی کی صدارت کرنا نہیں چاہتے۔

راہول گاندھی کی والدہ سونیا گاندھی اور بہن پریانکا گاندھی نے بھی اُن سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے کہا۔

گزشتہ روز 3 ریاستوں کے پارٹی چیفس کی جانب سے راہول گاندھی کو استعفے ارسال کرنے کے بعد مذکورہ اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

گانگریس کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں اپنی پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا جن میں بولی ووڈ اداکار راج ببر بھی شامل ہیں جو اتر پردیش میں کانگریس کے ریاستی سربراہ بھی تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے دوران راہول گاندھی بھی اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کانگریس نے شکست تسلیم کرلی، مودی کو کامیابی پر مبارکباد

راہول گاندھی اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ہیں اور انہوں نے اپنی بہن پریانکا گاندھی کے ہمراہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی کی سربراہی کی تھی۔

23 مئی کو بھارت میں عام انتخابات کے غیر حتمی نتائج میں بی جے پی کی واضح برتری کے بعد پریس کانفرنس میں راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ’میں پہلے بھی کہہ چکا تھا کہ جنتا (عوام) مالک ہیں اور آج لوگوں نے اپنا فیصلہ سنادیا، بھارتی عوام نے نریندر مودی کو اپنا وزیر اعظم منتخب کیا اور میں ان کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے انتخابات 2 نظریاتی جنگ کی مانند تھے اور ان کی پارٹی نظریاتی محاذ پر جنگ جاری رکھے گی۔

کانگریس کے صدر اور وزیر اعظم کے امیدوار راہول گاندھی کو اترپردیش کے حلقے امیٹھی سے اپنی ہی جیتی ہوئی نشست پر بی جے پی کی سمرتی ایرانی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ جنوبی ریاست کیرالا سے جیتنے میں کامیاب رہے۔

بھارت میں لوک سبھا کے حتمی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے 303 پر کامیابی حاصل کی جبکہ مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس 52 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہی۔