بلاول بھٹو کا ایڈز سے متاثرہ مریضوں کیلئے فنڈ قائم کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 26 مئ 2019

ای میل

چیئرمین پیپلز پارٹی نے ایڈز کے مریضوں کے نام رپورٹ کرنے اور تصاویر شائع کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی— فوٹو: سعید میمن /ڈان
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ایڈز کے مریضوں کے نام رپورٹ کرنے اور تصاویر شائع کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی— فوٹو: سعید میمن /ڈان

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے مفت اور عمر بھر علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو نے یہ اعلان تعلقہ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں بلڈ اسکریننگ سینٹر کا دورہ کرنے کے بعد رتوڈیرو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، وزیر صحت عذرا پیچو اور مشیر برائے اطلاعات مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔

دورے کے دوران بلاول بھٹو نے ڈاکٹروں اور ہسپتال عملے سے ملاقات کی، جنہوں نے بتایا کہ کیمپ میں 32 دن کے دوران ایچ آئی وی/ایڈز کی تشخیص کے لیے 22 ہزار افراد کا ٹیسٹ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا سندھ میں ایڈز کے علاج کیلئے 3 سینٹرز قائم کرنےکا فیصلہ

ڈاکٹروں اور عملے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو دُگنا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

بلاول بھٹو نے ہسپتال میں مریضوں کے لیے قائم کیے گئے یونٹ کا دورہ کیا اور متاثرہ بچوں کے والدین کو یقین دہانی کروائی کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے ایچ آئی وی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسمبلی میں بل کا ایک نیا مسودہ پیش کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ 2012 سندھ اسمبلی میں صوبے میں ایچ آئی وی/ایڈز پر قابو پانے کے لیے قانون سازی پر غور کیا تھا۔

بلاول بھٹو نے میڈیا کو ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کے نام رپورٹ کرنے اور تصاویر شائع کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ کے 14 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹو (ایڈز) ہونے کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ جس دن رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آئے اسی روز تربت سے اسی مرض میں 300 افراد کے مبتلا ہونے کا انکشاف سامنے آیا تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہم سب کو ایک ساتھ مل کر اس بیماری کے خلاف لڑنا ہوگا۔

بلاول بھٹو نے ایچ آئی وی/ایڈز اور بچوں سے متعلق متنازع بیان دینے پر ایک وفاقی وزیر کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ صرف ایک افطار کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے چیخوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مزید افطار بھی کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ بجلی اور گیس کے نرخ میں اضافے کا بم گرارہے ہیں۔

انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو ناقص قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کاروباری افراد بھی ناکام معاشی پالیسیوں سے متاثر ہورہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور ملکی معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے کیونکہ نیب اور ایف آئی اے کی وجہ سے بیوروکریٹ اور حکومت اپنی کارکردگی نہیں دکھاسکتے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم عمران خان حکومتی عہدیداران کے احتساب میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے چیئرمین نیب کو بلیک میل کررہے۔

بلاول بھٹو نے ٹی وی چینلز کی جانب سے چیئرمین نیب کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو کی نشر کرنے کی مذمت کی۔