ماؤنٹ ایورسٹ: رواں سیزن میں ہلاک ہونے والے کوہ پیماؤں کی تعداد 10 ہوگئی

اپ ڈیٹ 26 مئ 2019

ای میل

ایورسٹ پر موجود کوہ پیماؤں کی طویل قطاروں کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قراردیا جارہا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ایورسٹ پر موجود کوہ پیماؤں کی طویل قطاروں کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قراردیا جارہا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

کھٹمنڈو: کوہ پیما تنظیموں کا کہنا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر حال ہی میں ایک آئرش اور برطانوی کوہ پیما کی ہلاکتوں کے بعد رواں سیزن میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی۔

ایورسٹ پریوار ایکسپیڈیشن کے رکن مراری شرما کا کہنا تھا کہ 44 سالہ برطانوی کوہ پیما روبن فشر اس وقت چوٹی سے گرے تھے جب وہ چوٹی پر 150 میٹر واپسی کا فاصلہ طے کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمارے گائیڈز نے ان کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی جان نہیں بچائی جاسکی'۔

اس سے قبل ایورسٹ کے شمال کی جانب سے 24 مئی (برزو جمعہ) کی صبح ایک 56 سالہ آئرش شخص ہلاک ہوگیا تھا، ان کی ہلاکت کی تصدیق مہم جُو تنظیموں نے فیس بک پیج پر جاری کیے گئے بیان میں کی تھی۔

مزید پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب رن وے پر طیارے کو حادثہ، 3 افراد ہلاک

کوہ پیما نے چوٹی سر کیے بغیر واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن 7 ہزار میٹر (22،965 فٹ) اونچائی پر نارتھ کول پاس میں خیمے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں برس یہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا سیزن انتہائی جان لیوا معلوم ہورہا ہے اور حالیہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

چوٹی سر کرنے کے اس مختصر عرصے میں ماؤنٹ ایورسٹ پر بھارت کے 4، امریکا، آسٹریا اور نیپال کے ایک، ایک کوہ پیما ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایک اور آئرش کوہ پیما سے متعلق کہا جارہا ہے وہ چوٹی کے قریب پھسلنے سے گر کر جاں بحق ہوئے۔

گزشتہ روز ہونے والی 4 ہلاکتوں کا ذمہ دار ایورسٹ کے 'ڈیتھ زون' (خطرناک علاقے) میں موجود کوہ پیماؤں کی طویل قطاروں کو قرار دیا جارہا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کے لیے کوہ پیما ٹیموں کو انتہائی کم درجہ حرارت پر قطار میں گھنٹوں تک کھڑا رہنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے فروسٹ بائٹ اور اونچائی کی وجہ سے جان لیوا بیماری کے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔

21 سالہ انوجا ودیا جو گزشتہ ہفتے چوٹی سر کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں، انہوں نے کہا تھا کہ ٹیم کو پہاڑ سے نیچے اترنے کے لیے ایک گھنٹے سے زائد وقت انتظار کرنا پڑا کیونکہ راستے میں کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ماؤنٹ ایورسٹ پر شادی کرنے والا جوڑا

انہوں نے کہا کہ 'میں بہت خوفزدہ اور پریشان تھی' وہاں بہت ٹھنڈ اور ہوا بھی چل رہی تھی لیکن ہم فورا نیچے نہیں آسکتے تھے کیونکہ ہر کوئی ایک طویل قطار میں کھڑا ہوا تھا۔

خوش قسمتی انوجا ودیا زخمی ہوئے بغیر واپس آگئیں، انہوں نے بتایا کہ بیس کیمپ میں موجود اکثر کوہ پیماہ فروسٹ بائٹ کا شکار تھے۔

2012 میں ماؤنٹ ایورسٹ پر بڑی تعداد میں کوہ پیماؤں کی قطار کی تصاویر آنے کے باوجود کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی جبکہ اتنی بڑی تعداد کے انتظام اور پرمٹ کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس برس 10 افراد اور 2015 میں زلزلے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ نیپال کی حکومت نے اپریل تا مئی کے اوخرا میں موسم بہار کے کوہ پیما سیزن میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کو ریکارڈ 381 پرمٹ جاری کیے تھے اور ایک پرمٹ کی لاگت 11 ہزار ڈالر ہے، ہر کوہ پیما کے ہمراہ کم از کم ایک گائیڈ بھی ہوتا ہے۔

حکومتی عہدیدار نے کوہ پیما تنظیموں کی اطلاعات پر مبنی تعداد کے متعلق بتایا کہ 24 مئی تک نیپال کی جانب سے 600 افراد نے چوٹی سر کی تھی۔

آپریٹرز کے مطابق تبت کی جانب سے 140 افراد کو پرمٹ جاری کیے گیے تھے جس کے بعد گزشتہ برس 807 افراد کے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کا ریکارڈ کو ٹوٹنے کا امکان ہے۔


یہ خبر 26 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی