مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں محصولات کی وصولی میں ریکارڈ کمی

اپ ڈیٹ 01 جون 2019

ای میل

رپورت کے مطابق رواں مالی سال میں صوبوں کو منتقل ہونے والے شیئرز میں بھی غیر معمولی کمی آئے گی — فائل فوٹو/رائٹرز
رپورت کے مطابق رواں مالی سال میں صوبوں کو منتقل ہونے والے شیئرز میں بھی غیر معمولی کمی آئے گی — فائل فوٹو/رائٹرز

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران محصولات میں ریکارڈ کمی کے ساتھ صرف 447 ارب روپے وصول کرسکی۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق جولائی اور مئی کے درمیانی عرصے میں کی گئی وصولی میں غیر معمولی کمی کے باعث بجٹ خسارہ توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: تجارتی خسارہ کم ہو کر 5 سے 6 ارب ڈالر ہوجائے گا، مشیر تجارت کا دعویٰ

ایف بی آر ریونیو میں کمی کے نتیجے میں بجٹ خسارہ بڑھے گا بلکہ رواں مالی سال میں صوبوں کو منتقل ہونے والے شیئرز میں بھی غیر معمولی کمی آئے گی۔

اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران صرف 33 کھرب 3 ارب روپے وصول کیے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 37 کھرب 51 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ حکومت نے مالی سال 19-2018 کے لیے ریونیو وصولی کا ہدف 43 کھرب 97 ارب روپے طے کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: فروری میں مہنگائی کی شرح میں 8.2 فیصد اضافہ

اعداد وشمار سے واضح ہوتا ہے کہ تمام ٹیکس ادائیگیوں میں ہدف کے مقابلے میں کمی دیکھنے میں آئی۔

کم وصولی آئندہ مالی سال کے لیے بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے بیل آؤٹ پیکج کے لیے اٹھائے گئے ایف بی آر کے اصلاحاتی اور آمدنی کے اقدامات کو عیاں کرتی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ 20-2019 میں 600 ارب روپے مالیت کے آمدنی اقدامات نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

کسٹم کلیکشن میں کمی کی بڑی وجہ فرنس آئل کی درآمدات پر پابندی، استعمال شدہ گاڑیوں اور غیر ضروری لگژری اشیا کی درآمد کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال: محصولات کی وصولی 3 فیصد معمولی اضافے کے باوجود ہدف سے دور

کسٹم حکام کے مطابق ڈالر کی قدر میں تنزلی اور کھانے پینے کی چیزوں کی درآمد میں 20 فیصد کمی کے باعث ریونیو وصولی میں 15 فیصد اور ہوئی۔

اس سے قبل رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ایف بی آر کی وصولی میں 3 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جبکہ جولائی سے اپریل کے دوران شارٹ فال 356 ارب روپے سے زائد رہا تھا۔